ساڑھے3 سال ذمہ داری میری لیکن حکمرانی کسی اورکی تھی،عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ یہاں ذمہ داری میری تھی لیکن حکمرانی کسی اور کی تھی۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساڑھے 3 سال میں آدھی پاور بھی مل جاتی تو شیر شاہ سوری سے مقابلہ کر لیتے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے تو معاشرہ خوشحال ہوتا ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹرز کنونشن سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جو 30 سال سے چوری کر رہے ہیں انہیں این آر او ملتا جا رہا ہے، اس طرح کے نظام میں نوجوانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب آدمی چھوٹی چوری پر بھی جیل میں ہوتا ہے جبکہ موجودہ حکومت کے اربوں کے کرپشن کیسز معاف کر دیے گئے، اس سے زیادہ ظلم کسی معاشرے میں نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے زمانے میں ریکارڈ برآمدات ہوئیں، اب زر مبادلہ اور ٹیکس جمع ہونا ختم ہو چکا ہے۔ معیشت خراب اور صنعت بند ہو گئی ہے۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ بیرونی سازش کے تحت ان چوروں کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا۔ پاکستان پر ظلم ہو رہا ہے جس وجہ سے قوم کو کال دے رہا ہوں، اس کال پر سب کو حصہ لینا ہے۔اس سے قبل اسلام آباد میں ٹریڈ یونین ورکرز کونشن سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم کے بعد انہیں ملک میں ڈاکا ڈالنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے، اس قانون میں صرف چھوٹا چور پکڑا جائے گا بڑا نہیں، اس کا مطلب وائٹ کالر کرائم کو نہیں پکڑ سکتے۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سروے آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق جب ہماری حکومت ہٹائی گئی تو17 سال بعد سب سے بہترمعیشت تھی، نوکریاں مل رہی تھیں اور ملک کی دولت میں اضافہ ہو رہا تھا، تیسرے سال آمدنی میں 7.5 فیصد اور چوتھے سال 6 فیصد اضافہ تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں