زخموں کو تیزی سے ٹھیک کرنے والی برقی پٹی

بعض ایسے زخم اور ناسور ہوتے ہیں جو بہت مشکل سے مندمل ہوتے ہیں۔ اب ایک برقی پیوند (اسٹیکر) کی بدولت زخموں کو تیزی سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ٹیراساکی انسٹی ٹیوٹ آف بایومیڈیکل انوویشن کے ماہرین نے بڑھاپے، موٹاپے، جلنے یا ذیابیطس کے شکار ایسے مریضوں کے لیے برقی رو والا پیوند بنایا ہے جسے لگا کر زخم بھرنے کے عمل کو تیزترکیا جاسکتا ہے۔ اس سے معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے، مریض کو آسانی ہوتی ہے اور علاج پر غیرضروری اخراجات میں کمی ہوتی ہے۔زخم گہرا یو معمولی، اس کے مندمل ہونے کے چار مراحل ہوتے ہیں، اول خون کے بہاؤ کو روکنے کے لیے پلیٹیلیٹس آگے آتے ہیں، بعد ازاں پروٹین کا تانا بانا بنتا ہے جس سے خون کی رگیں بنتی ہیں اور وہاں کھال کے کئی درجے بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد جلد کا آخری حصہ تشکیل پاتا ہے۔ پھر حتمی مرحلے میں پوری کھال بنتی ہے اور یوں زخم کی جگہ ایک معمولی نشان رہ جاتا ہے۔ اگرچہ ہم منفی پریشر والی پٹیاں، گروتھ فیکٹر والی روئی، سوزش دور کرنے والے پھائے، اور الٹراساؤنڈ سے بھی زخموں کا علاج کرتے ہیں لیکن بہترین طریقے میں بھی کم سے کم 12 ہفتے لگتے ہیں۔اب لاس اینجلس کے ٹیراساکی انسٹی ٹیوٹ نے اسمارٹ اور لچکدار برقی پیچ بنایا ہے جسے ’ای پیچ‘ کا نام دیا گیا ہے جو برقی فیلڈ (ای ایف) سے زخم ٹھیک کرتا ہے۔ اس کے لیے چاندی کے انتہائی باریک یعنی نینوتار استعمال کئے گئے ہیں جو بیکٹیریا سے بچاتے ہیں اور زخم پر ہلکا کرنٹ بھی ڈالتے ہیں۔ اس میں الگنیٹ نامی ایک جزو بھی شامل کیا گیا ہے جو ناسور کی جگہ کو نم رکھتا ہے اور اسے بدن کے لیے موزوں بھی بناتا ہے۔اگلے مرحلے میں ای پیچ میں کیلشیئم شامل کرکے اس میں برقیرے کی کارکردگی بہتر بنائی گئی ہے۔ اب الگنیٹ پر مبنی ایک بایو جل بنایا گیا جسے آسانی سے زخم کی گہرائی اور شکل کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔ جیسے ہی اسے زخم پر رکھا جاتا ہے کیلشیئم زخم کی جگہ حرکت کرتا ہے اورخون کی نئی باریک نالیاں پیدا ہونے میں مدد دیتا ہے۔ خون کی نالیاں بننے سے وہاں لہو اور غذائی اجزا پہنچنا شروع ہوتے ہیں اور یوں زخم بھرنے کا عمل تیز تر ہوجاتا ہے۔اس ایجاد کا سب سے اہم پہلو بہترین اجزا کا انتخاب ہے جنہیں بار بار ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کرکے آزمائش کی گئ ہے۔ لیکن اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پیوند برقی فیلڈ سے ہی زخم ٹھیک کرتا ہے اور یوں خلیات کو متحرک کرکے گہرے ناسور کو بھی مندمل کیا جاسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں