دنیا بھرمیں منکی پاکس کےمریضوں کی تعداد14 ہزارسے تجاوز

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ رواں برس مئی میں شروع ہونے والی بیماری ‘منکی پاکس’ سے دنیا بھر میں متاثر افراد کی تعداد بڑھ کر 14 ہزار ہوگئی۔رواں ماہ 6 جولائی کو عالمی ادارے نے بتایا تھا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہزار ہوگئی اور گزشتہ 14 دن میں بیماری کے شکار افراد کی تعداد دگنی ہوگئی۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم گیبریسیس نے 20 جولائی کو تصدیق کی کہ منکی پاکس سے متاثر افراد کی تعداد بڑھ کر 14 ہزار تک جا پہنچی۔انہوں نے بتایا کہ براعظم افریقہ میں منکی پاکس سے تازہ 5 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جب کہ رواں ماہ کے آغاز تک افریقہ سے باہر بھی اس سے تین اموات کی تصدیق کی گئی تھی۔گزشتہ دو ہفتوں میں منکی پاکس کے کیس دنیا بھر میں دگنے ہوگئے اور مذکورہ بیماری 60 سے زائد ممالک تک پھیل گئی۔ڈبلیو ایچ او نے ایک بار پھر کہا ہے کہ منکی پاکس سے متاثر زیادہ تر افراد ہم جنس پرستی کی جانب راغب مرد حضرات ہی ہیں۔ابتدائی طور پر 1970 کے بعد افریقہ کے مغربی حصے میں بندروں میں پائی جانی والی بیماری رواں برس مئی میں پہلی بار افریقہ سے باہر یعنی یورپ میں رپورٹ ہوئی تھی۔ مئی میں منکی پاکس کے کچھ کیسز انگلینڈ اور بعد ازاں اسپین اور اٹلی میں رپورٹ ہوئے، جس کے بعد یہ بیماری جرمنی، فرانس اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد یورپی ممالک تک پھیلی، جس کے بعد وہاں سے یہ بیماری امریکا اور مشرق وسطی ممالک تک بھی جا پہنچی۔ عالمی ادارہ صحت منکی پاکس کے حوالے سے ہی پہلی واضح کر چکا ہے کہ اس کے کورونا کی طرح وبا بننے کے امکانات نہیں اور نہ ہی اس مرض کی وجہ سے عالمی سطح پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ بیماری سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرض کورونا یا اس طرح کی دیگر وباؤں کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، منکی پاکس صرف قریبی تعلقات اور خصوصی طور پر جسمانی تعلقات سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق منکی پاکس عام طور پر صرف افریقی خطے میں پایا جاتا ہے اور کئی دہائیوں سے مذکورہ مرض کے کیسز کسی دوسرے خطے میں سامنے نہیں آئے تھے۔ چیچک اور جسم پر شدید خارش کے دانوں کی بیماری سے ملتی جلتی اس بیماری سے متعلق ماہرین کا ماننا ہے کہ منکی پاکس ایک بہت کم پایا جانے والا وبائی وائرس ہے، اس کی علامات میں بخار ہونا اور جلد پر خارش ہونا شامل ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں