دل کےبعد پہلی مرتبہ انسان میں خنزیر کےدو گردوں کی کامیاب پیوندکاری

سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ دونوں ناکارہ گردوں والے ایک مریض میں خنزیر کے دو گردے لگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ گردے 57 سالہ جِم پارسن کو لگائے گئے ہیں جو اس سے قبل مصنوعی طبی نظام پر زندگی گزاررہے تھے۔ ان کے گردے ناکارہ ہوچکے تھے اور مزید زندگی کی امید بھی نہیں تھی۔جم پارسن ایک حادثے کے شکار ہوکر دماغی موت کے شکار ہوچکے ہیں اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ڈاکٹروں نے انسانی فلاح کی خاطران کے اہلِ خانہ سے اجازت لی اور جِم کے ناکارہ گردے نکال کر خنزیر کے گردے لگائے گئے۔یہ طویل آپریشن یونیورسٹی آف الباما ایٹ برمنگھم (یو اے بی) کے ڈاکٹر جیم لوک نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جانوروں سے اعضا کی منتقلی (زینوٹرانسپلانٹیشن) میں یہ ایک اہم پیشرفت ہے جسے طبی دنیا کا سنگِ میل کہا جاسکتا ہے۔ ’ہم نے ناکارہ گردے کے آخری اسٹیج پر موجود مریض میں خنزیری گردوں کی پیوندکاری کے تمام مراحل اور معلومات کے درمیان موجود خلا کو عبور کیا ہے،‘ ڈاکٹر جیم نے کہا۔جینیاتی تبدیلیوں سے جانوروں کے اعضا انسانوں میں منتقلی کا علم زینوٹرانسپلانٹیشن کہلاتا ہے جس پر عشروں سے تحقیق ہورہی ہے۔ اس ضمن میں خنزیر سب سے بہترین امید ثابت ہوئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے اعضا کو جینیاتی طور پر بدل کر انسانوں کےلیے قابلِ قبول بنانا قدرے آسان ہوتا ہے۔ دوم خنزیروں کے دل، جگر، گردوں کی جسامت انسانی اعضا کے برابر ہوتی ہے۔اس سے قبل خنزیر کا ایک گردہ انسان میں کامیابی سے لگایا گیا تھا اور اب دو گردوں کی پیوندکاری کا یہ پہلا واقعہ ہے جو بہت کامیاب رہا۔ اس کے علاوہ خنزیروں سے انسانی دل کے والو اور دیگر اعضا منتقل کرنے کے واقعات بھی ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر جیم کے مطابق، انسانوں سے قبل بندروں اور چمپانزی پرخنزیر کے گردوں کی تفصیلی آزمائش کی گئی تھی۔جم پارسن موٹرسائیکل ریسنگ میں حادثے کے شکار ہوئے اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔ چار گھنٹوں پرمحیط آپریشن کے بعد ان کے جسم نے گردوں کو رد نہیں کیا کیونکہ خنزیر کے گردوں کے دس جین تبدیل کئے گئے جو اعضا کے مسترد کرنے کی وجہ بن سکتے تھے۔ماہرین نے دیکھا کہ گردے ٹھیک چل رہے ہیں۔ ان میں خون صاف کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور صرف پندرہ منٹ بعد ہی انہوں نے پیشاب بنانا شروع کردیا تھا۔ ماہرین نے مسلسل 77 گھنٹوں تک گردوں کو کارکردگی کا معائنہ کیا جس میں گردے بہترین حالت میں کام کررہے تھے۔ماہرین نے جم کے اہلِ خانہ سے کہا کہ ان کی اتنی بڑی قربانی کے بعد اس ماڈل کو ’پارسن ماڈل‘ کا نام دیا گیا ہے

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں