عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ 23 دسمبر کوپنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کردیں گے۔لبرٹی چوک پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بعد ہم الیکشن کی تیاری کریں گے، اس کے بعد غالباً ہماری 123 قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں، ہم وہاں جا کر اسپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں گے کہ ہمارے استعفے قبول کرو۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشنر نے نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر 8 سیٹیں چنیں، جو ہماری سب سے کمزور نشستیں تھیں، اور جدھر پی ڈی ایم کا ووٹ دگنا تھا، ہماری باشعور قوم ہے، پتا ہوتے ہوئے کہ میں نے اسمبلی میں نہیں جانتا، اس کے باوجود میری قوم نے مجھے تمام 8 نشستوں پر کامیابی دلائی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے، اپنی قوم کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مایوسی گنا ہے، آپ مایوس ہو کر گھر بیٹھ جائیں، یا آپ کسی اور ملک چلے جائیں، یہ میری نظر میں انسان اپنی ڈیوٹی سے بھاگتا ہے، آپ سب کی اصل ڈیوٹی یہ ہے کہ آپ سب کھڑے ہوں اور ہم ان چوروں اور کرپٹ نظام کا مقابلہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے الیکشن کے ذریعے ان کو سبق سکھائیں، میں نہیں چاہتا یہاں سری لنکا جیسی صورتحال ہو کہ لوگ سڑکوں پر آ جائیں اور توڑ پھوڑ ہو، میں چاہتا ہوں، انہیں انتخابات کے ذریعے شکست دیں۔ عمران خان نے کہا کہ ان کو ایسی شکست دیں کہ ہمیشہ کے لیے ان چوروں کو نام و نشان یہاں سے چلا جائے، اور وہ تب ہو گا کہ جب آپ سب اس کو اپنی ذمہ داری لے کر نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ساڑھے تین سال حکومت میں رہا، اس کے باوجود کہ بینک کرپٹ حکومت ملی، اس کے باوجود کہ ہمارے پاس تجربہ ہی نہیں تھا، ہم پہلی دفعہ حکومت میں آئے تھے ایک کے بعد دوسرا بحران تھا، صدی میں ایک دفعہ آنے والا کورونا جیسا بحران بھی آ گیا، اس کے باوجود ہماری معاشی کارکردگی سب سے بہترین تھی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اب ملک اس وقت اٹھے گا جب بڑے اور مشکل فیصلے ہوں گے، مشکل فیصلوں کا مطلب ملکی اداروں کو ری اسٹرکچر کریں، اس ملک میں انصاف قائم کریں، اگر اللہ بھاری اکثریت دیتا ہے تو تب آپ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، اس ملک میں اصلاحات کرسکتے ہیں، ادارے ٹھیک کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اتنی بڑی حکومت بنا دی، جو ہمیں آگے نکلنے نہیں دیتی، ہر جگہ رکاوٹیں بن گئی ہیں، ہم نے کافی تبدیل بھی گیا، ہم نے کس طرح برآمدات بڑھانا ہیں، اس کا منصوبہ بنایا ہوا ہے، اسی طرح اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری کو کیسے کھڑا کرنا ہے، جو اصل روزگار دیتی ہے، اور دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زراعت کے حوالے سے چین سے بات کر چکے تھے کہ نئی ٹیکنالوجی لے کر آئیں، بدقسمتی سے کورونا کی وجہ سے 2 سال چین بند ہو گیا، اگر ہم اپنی زرعی پیداوار دگنی کر لیں تو آپ یہ سمجھیں کہ پاکستان میں ایہ انقلاب آ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس ملک کو اٹھا سکتے ہیں لیکن وہ حکومت اٹھائے گی جس کے پاس مینڈیٹ ہو، جس کے پاس عوام کی طاقت ہو، اللہ کے بعد اس ملک میں جو وراث عوام ہیں، عوام نے قوم بن کر اس مشکل وقت سے نکلنا ہے، اور نکلیں گے تب، جب اس ملک میں صاف اور شفاف انتخابات ہوں، اور اس کے لیے اب ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سروے کے مطابق 70 فیصد پاکستانی کہہ رہے ہیں کہ انتخابات کرواؤ، ہم نے آئین میں رہتے ہوئے حکومت پر پریشر ڈالنے کی کوشش کی کہ عوام ادھر کھڑی ہوئی ہے، کیا یہ صرف اس لیے حکومت میں ہیں کہ ہمارے کرپشن کے کیسز معاف ہو جائیں یا نواز شریف کو پاک کر دیں اور پھر نیلسن منڈیلا پاکستان آجائے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ میں چاہتا تھا کہ آج قوم کے سامنے یہ رکھوں کہ ہم اس اسٹیج پر پہنچے کیسے، ہماری اپنی حکومتیں ہیں لیکن ہم کیوں اس نتیجے پر پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں اپنی حکومتیں بھی قربان کرنی پڑیں، اس ملک کے اندر جب تک صاف اور شفاف انتخابات نہیں ہوں گے، ہم سب کو خوف ہے کہ ملک ڈوب رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ آج ہماری انڈسٹری بند ہو رہی ہے، ہم نے مراعات دے کر انڈسٹری بڑھائی، ہمارے ٹیکسز بڑھ رہے تھے، ہم نے ریکارڈ برآمدات کیں، میں نے اپنی کسانوں کی مدد کی۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ملک میں مایوسی کا یہ عالم ہے کہ سات مہینے میں 7 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر چلے گئے، اس میں انجینئر، ڈاکٹرز سمیت دیگر ہنرمند لوگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ ملک ترقی کررہا تھا ہم نے پہلے سال پاکستان کو سنبھالا اور پھر پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ کیا، حالانکہ کورونا کے وبا بھی تھی، جس کی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ میرا آج سوال یہ ہے کہ اس رجیم چینج کا ذمہ دار کون تھا، جب معیشت بڑھ رہی تھی، کیا وجہ تھی کہ حکومت کو گرا کر چوروں کی حکومت کو اوپر بٹھایا گیا، کون جواب دے گا کہ وہ معیشت جو اوپر جا رہی تھی، اس کی جگہ آج وہ حالات ہیں کہ باہر کی دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان کو اگر قرضے دیں گے، تو قرضے واپس کرنے کا ڈیفالٹ ریٹ 100 فیصد ہے، ہمارے دور میں یہ 5 فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری آدھی رہ گئی ہے، ہم نے بیرون ملک پاکستانیوں کی مدد کی تھی، پاکستان کی تاریخ میں بیرون ممالک پاکستانی سب سے زیادہ ڈالرز بھیج رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بیروزگاری بڑھ رہی ہے، ملک کا یہ حال ہے کہ نہ باہر سے کسی کو اس حکومت پر اعتماد ہے، اور پاکستان کے 88 فیصد بزنس مین کہتے ہیں کہ ہمیں اس حکومت پر اعتماد نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے معیشت کو سنبھالا ہوتا تو کہتے چلیں ٹھیک ہے، اپنا ٹائم پورا کر لیں لیکن ملک تو نیچے جارہا ہے، مجھے خوف ہے کہ یہ ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ان (حکومت) کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے، یہ صرف ایک چیز چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح الیکشن میں تاخیر کریں، اس لیے نہیں کہ انہوں نے معیشت کو اٹھا دینا ہے، اس لیے تاخیر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ انتخابات سے خوفزدہ ہیں، انہیں ڈر ہے کہ جب بھی الیکشنز ہوں گے، انہوں نے ہار جانا ہے، اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ ملک کو تباہ کر رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ اکتوبر میں بھی انتخابات نہیں کروایں گے، الیکشن کمشنر ان کے ساتھ ملا ہوا ہے، وہ ان کو طریقے سے بتائے گا کہ الیکشن میں کیسے تاخیر کی جاسکتی ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ کس نے چلتی ہوئی حکومت کو سازش کرکے بیرونی سازش کا حصہ بن کے گرایا، اس کا ذمہ دار کون ہے، اس کا ایک آدمی ذمہ دار ہے، اس کا نام ہے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس کے خلاف اس لیے نہیں بات کرتا تھا کہ یہ آرمی چیف تھے، آرمی چیف کے خلاف اس لیے بات نہیں کرسکتے کیونکہ فوج کا برا نام نہ آئے، ہم چاہتے ہیں کہ فوج مضبوط ہو تاکہ ہم آزاد ملک رہ سکیں، اس لیے ہم چپ کرکے بیٹھے رہے اور یہ سارے تماشے دیکھتے رہے کہ کیسے سازشیں ہوئیں، کیسے لوگوں کو بتایا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ یہ جو ساری سازش ہوئی تھی، کسی اور کو نہ کہیں، ایک آدمی فیصلہ کرتا ہے، وہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ تھے، انہوں نے ہمیں ہٹانے کا فیصلہ کیا، اس کے پیچھے کیا وجہ تھی، کیا وجہ تھی کہ انہوں نے حکومت کو گرا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح مصطفیٰ کھوکھر نے بتایا کہ باپ، ایم کیو ایم اور شاہ زین بگٹی کا سب کو پتا تھا کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ سے جدھر جانے کا حکم ملے گا، انہیں وہاں جانا ہے، اس کو ادھر بھیج دیا اور حکومت گر گئی۔ عمران خان نے کہا کہ جب حکومت گر گئی، جب ان کو اس چیز کو علم ہوا کہ عوام ہمارے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی، 10 اپریل کو عوام سڑکوں پر نکل آئی، لوگوں نے ان چوروں کو مسترد کر دیا بلکہ ہماری مقبولیت بڑھنا شروع ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں جب ضمنی انتخابات کروائے گئے تو ان (موجودہ حکومت) کو جیتانے کے لیے ریاستی مشینری کے ساتھ پوری کوشش کی گئی، اس کے باوجود یہ ہار گئے، قوم نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عمران خان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بجائے سمجھیں کہ جنرل (ر) باجوہ آپ نے غلطی کر دی ہے، آپ عقل کل تو نہیں ہیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ لوگ کدھر کھڑے ہیں، بجائے اس کے کہ چیزیں ٹھیک کریں، ہمارے اوپر ظلم شروع ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری قوم کو پتا ہے کہ این آر او (2) جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے دیا ہے، میں جب حکومت میں تھا، انہیں کہتا رہا کہ یہ 30 سال سے چوری کررہے ہیں، ان پر کرپشن کے کیسز ہیں، نیب کو آپ کنٹرول کرتے ہیں، کیوں ان کے کیسز آگے نہیں بڑھاتے۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ یہ (سابق آرمی چیف) کہتے رہے کہ آپ ملک کی اقتصادیات کو ٹھیک کریں، احتساب کو بھول جائیں، کبھی کوئی مہذب معاشرہ یہ اجازت دیتا ہے کہ بڑے بڑے لوگ جو اربوں کی چوری کریں، آپ کہیں ان کو این آر او دے دیں، اور چھوٹے چوروں کو پکڑنا شروع کریں اور سوچیں کہ آپ کا ملک ترقی کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے اوپر 16 ارب روپے کا ایف آئی اے کا اوپن اینڈ شٹ کیس تھا، اس میں کوئی شک نہیں تھا، اسے بچایا گیا، ان کا صاحبزادہ سلیمان شہباز باہر بھاگ گیا تھا، اب واپس آیا ہے، جیسے ہی ایف آئی نے سوال پوچھا کہ نوکروں کے پاس اربوں روپے کدھر سے آئے ہیں، وہ ملک سے بھاگ گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں (حکومتی اتحاد) نے قانون بنائے کہ جس میں لوگ بچے، انہوں نے نیب قانون کی دفعہ 4 میں ترمیم کی، اس میں راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی بچ جاتے ہیں، پھر سیکشن 5 (ای) میں ترمیم کی، اس میں مریم نواز ساری چوری سے پاک ہو کر نکل آئیں، اس کے بعد سیکشن 9 میں ترمیم کی جس کے اندر شہباز شریف بچ جاتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے ایک جگہ جنرل (ر) باجوہ نے بتایا کہ آپ کے لوگوں کے اوپر کرپشن کے حوالے سے ہمارے پاس فائلیں ہیں، ان کی ویڈیوز بنی ہوئی ہیں، میں نے ان سے بھی کہا کہ کیا ہماری ایجنسیز کا کام ہے کہ گندی ویڈیوز بنائیں یا اس کے خلاف فائلیں بنائیں۔ خیال رہے کہ 14 دسمبر کو سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مشاورت مکمل کر لی ہے، ان شا اللہ 17 دسمبر کو لبرٹی چوک پر اپنے خطاب میں تاریخ دوں گا کہ ہم کب پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کریں گے۔ ویڈیو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اس کے علاوہ غالباً ہمارے 125 ارکین قومی اسمبلی ہیں، جن کے استعفے انہوں نے ابھی تک قبول نہیں کیے، ہم قومی اسمبلی میں اسپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں گے کہ ہمارے استعفے قبول کرو تاکہ ہم قومی اسمبلی سے بھی نکلیں، پھر تقریباً 70 فیصد پاکستان میں انتخابات ہوں گے۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ازخود منظور ہوکر قانون بن گیا، نوٹیفکیشن جاری
جس بینچ پرپارلیمنٹ نےعدم اعتماد کیااس کےسامنے کیسے پیش ہوجاؤں،فضل الرحمن
عدالت 14 مئی کو الیکشن کرانے کا فیصلہ واپس نہیں لے گی، چیف جسٹس
“آئین پاکستان” موبائل ایپلی کیشن کا اجرا
جنوبی کوریا کےمعروف پاپ گلوکارمون بن25 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
گل قند کےفوائد
گرل فرینڈ ملنےمیں دشواری،امریکی شخص نےقد لمباکرنےپر ایک کروڑ35 لاکھ خرچ کر دیے
عمرہ زائرین کی گاڑی کوحادثہ،9 پاکستانی جاں بحق
ہمارےکارکنوں کوگرفتارکرکےان کےسافٹ ویئراپ ڈیٹ کیےجا رہےہیں،عمران خان
چوہدری انوارالحق بلامقابلہ وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب