خیرات کیلئےجمع کی جانیوالی رقم پی ٹی آئی کومنتقل کیے جانےکا انکشاف

برطانوی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے پی ٹی آئی کے لیے خیرات کے نام پر رقم اکٹھاکی، برطانیہ میں ٹی ٹوئنٹی میچ کروائے گئے، اس کے علاوہ مختلف ذرائع سے حاصل کی جانے والی رقم پی ٹی آئی کو منتقل کی گئی۔ فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عارف نقوی نے کیمن آئی لینڈز میں شامل کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو پاکستان تحریک انصاف کے بینک رول کے لیے استعمال کیا۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نےکرکٹ ایونٹس کرائے، ایک کرکٹ میچ آکسفورڈ شائر میں عارف نقوی کی محل نما رہائش گاہ پرکھیلاگیا، عارف نقوی نے ویک اینڈ پرکھیلوں اور شراب نوشی کےلیے دعوت دی جس میں عمران خان سمیت سیکڑوں بینکرز، وکلا اور سرمایہ کاروں نےشرکت کی۔ برطانوی اخبار کے مطابق عارف نقوی 2012 سے2014 تک ووٹن ٹی ٹوئنٹی کے صدر رہے، ووٹن پیلس پرکھیلاجانے والا میچ اس ٹورنامنٹ کا اہم حصہ تھا، اس ایونٹ میں مہمانوں کو 2 سے ڈھائی ہزار پاؤنڈ کے درمیان ادائیگی کا کہا گیا، بتایا گیا کہ یہ رقم فلاحی مقاصد کے لیے طلب کی گئی ہے،اس قسم کی چیریٹی فنڈ ریزر برطانیہ میں ہرسال موسم گرما میں دہرائی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اس کا فائدہ پاکستان میں سیاسی جماعت اٹھارہی تھی، یہ غیرمعمولی بات تھی، فیس ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو دی گئی جودراصل کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈکمپنی تھی، کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈکمپنی عارف نقوی کی ملکیت تھی، یہ رقم پی ٹی آئی کوفنڈ دینے کے لیے استعمال کی گئی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ ووٹن کرکٹ کوکئی کمپنیوں اور افراد نےلاکھوں ڈالرکےفنڈز دیے، ابوظبی کےشاہی خاندان کے ایک وزیرنے بھی 20لاکھ پاونڈز دیے۔ فنانشل ٹائمزکی طرف سے ابراج کی ای میلز اور اندرونی دستاویزات کا جائزہ لیاگیا جس میں کہا گیا کہ ووٹن کرکٹ کو 14مارچ 2013 کو ابراج انویسٹمنٹ سے 13 لاکھ ڈالرموصول ہوئے، ووٹن کرکٹ کےاکاؤنٹ سے 13 لاکھ ڈالربراہ راست پی ٹی آئی کےاکاؤنٹ میں ڈالے گئے، اس حوالے سے بینک اسٹیٹمنٹ اور سوئفٹ کی تفصیلات کی کاپی موجود ہے، اپریل 2013 میں شیخ نہیان مبارک نے ووٹن کرکٹ کے اکاؤنٹ میں 20 لاکھ ڈالرمنتقل کیے، 20 لاکھ ڈالر آنےکے 6 دن بعد12 لاکھ ڈالر 2 قسطوں میں پاکستان منتقل کردیے گئے، شیخ نہیان ابو ظبی کے شاہی خاندان کے رکن وزیر اور بینک الفلاح کے چیئرمین ہیں، کیش فلو کے ذمہ دار ابراج ایگزیکٹو نے نقوی کو ای میل میں بتایا کہ شیخ کے پیسے آگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رقم ووٹن کرکٹ اکاؤنٹ میں آنےکے بعد رفیق لاکھانی کو نقوی نے ای میل کی، لاکھانی نے رقم 2 قسطوں میں پاکستان منتقل کرنےکی تجویز دی۔ برطانوی اخبار کا کہناہےکہ کراچی میں طارق شفیع کے ذاتی اکاؤنٹ میں رقم بھیجنےکی تجویزدی گئی، لاہور میں انصاف ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجنےکی تجویزدی گئی، نقوی نےجواب دیا کہ پی ٹی آئی کو 12 لاکھ ڈالر بھیجیں، نقوی نےکہا کسی کونہ بتائیں کہ فنڈزکہاں سے آرہے ہیں اورکون حصہ ڈال رہاہے، رفیق لاکھانی نے جواب دیا ’ضرور سر‘۔ برطانوی اخبار کے مطابق رفیق لاکھانی نے کہا کہ ووٹن کرکٹ سے 12لاکھ ڈالر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں منتقل کریں گے، ووٹن کرکٹ نے 6 مئی 2013 کو شفیق اورانصاف ٹرسٹ کو 12 لاکھ ڈالرمنتقل کیے، اس کے بعدنقوی نے ایک ساتھی سے مزید12 لاکھ ڈالرپی ٹی آئی کومنتقل کرنے پرای میلز کا تبادلہ کیا، ابراج کے سینئر ایگزیکٹو رفیق لاکھانی نے نقوی کو ای میل کی کہ ٹرانسفرکا مقصد پی ٹی آئی کے لیے تھا۔ برطانوی اخبار کے مطابق شیخ نہیان نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا البتہ عمران خان نےتصدیق کی کہ شفیع نے پی ٹی آئی کوچندہ دیا۔برطانوی اخبار کےمطابق عمران خان نے کہا کہ یہ طارق شفیع کوجواب دینا ہےکہ اس نے یہ رقم کہاں سےحاصل کی، ابراج کی جانب سے ووٹن کرکٹ کے ذریعے 1.3 ملین ڈالردینےکا علم نہیں تھا، پی ٹی آئی کو شیخ نہیان سےملنے والے فنڈز کے بارے میں علم نہیں۔دوسری جانب جنوری میں الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹن کرکٹ کلب سے 1.12 ملین ڈالر منتقل کیے گئے لیکن پی ٹی آئی نے پیسے کے ذرائع نہیں بتائے۔ عارف نقوی نے ووٹن کرکٹ کلب کا مالک ہونا تسلیم کیا ہے لیکن کسی غلط کام کرنے کی تردید کی ہے۔ الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے ایک بیان میں عارف نقوی نے کہا کہ انہوں نے کسی غیر پاکستانی شخص یا کمپنی کی کسی ممنوعہ ذریعے سے رقم حاصل نہیں کی۔ووٹن کرکٹ کے بینک اسٹیٹمنٹ سے الگ کہانی سامنے آتی ہے، 2013 میں عارف نقوی نے تین حصے میں تحریک انصاف کو 2.12 ملین ڈالر منتقل کیے، ابراج گروپ کی طرف سے منتقل کی گئی سب سے بڑی رقم 1.3 ملین ڈالر تھی۔کمپنی کی دستاویز کے مطابق یہ رقم ووٹن کرکٹ کو کے الیکٹرک سے منتقل کی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں