جعل سازوں نے درجنوں شہریوں کو آن لائن ڈیبٹ کارڈ کے ذریعےرقم سےمحروم کردیا

کراچی میں آن لائن فراڈیے نے درجنوں شہریوں کے آن لائن ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے اکاؤنٹس سے ملکی اور غیرملکی کرنسی کی مد میں بڑی رقم چوری کرلی ہیں۔جعل ساز گزشتہ دو روز سے متعدد شہریوں کے اکاؤنٹس سے پیسے نکال چکے ہیں۔ جعلسازوں کا طریقہ واردات بھی پہلے سے مختلف ہے۔ فراڈیے ملکی اور غیر ملکی کرنسی میں معمولی رقم نکال رہے ہیں۔جعل ساز انعامی اسکیم، بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام استعمال کر کے شہریوں سے ان کی ذاتی معلومات لیتے ہیں۔ملزمان جعلی شاپنگ ایپ سے بھی شہریوں کے اے ٹی ایم پن حاصل کرلیتے ہیں۔ ایف آئی اے سائبرکرائم نے شہریوں کی شکایتوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آن لائن ڈیبٹ کارڈ فراڈ سے ابتدائی طورپر تین نجی بینکوں کے صارفین متاثر ہوئے ہیں، جس میں یو بی ایل، ایچ بی ایل بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہےکہ فراڈ کی شکایات دو روز سے منظر عام پر آنا شروع ہوئیں، شہریوں کے اکاؤنٹ سے چھوٹی رقوم کی کئی ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ ٹرانزیکشنز بین الاقوامی رقوم میں ہوئیں اور ٹرانزیکشنز سرچ انجن گوگل پر جعلسازی سے کی گئیں۔ آن لائن ڈیبٹ کارڈ فراڈ سامنے آنےکے بعد کئی شہریوں نے اپنے بینکوں سے رابطے کیے ہیں جب کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے بھی شہریوں سے رابطہ کیا ہے اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آن لائن ڈیبٹ کارڈ فراڈ سے کتنے شہری متاثر ہوئے ہیں یہ کہنا فی الحال مشکل ہے، فوری طور پر ان صارفین کو پتا چلا ہے جو کہ ای میلز چیک کرتے ہیں یا ان کے موبائل پر اکاؤنٹ کی تفصیلات آتی رہتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں