بیرونی سازش کاجعلی بیانیہ بناکرہیجان برپاکیا،اب اس سےراہ فراراختیارکی جارہی ہے،آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ایک بیرونی سازش کا جعلی بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فوج کی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جاسکتی، کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک بیرونی سازش ہو اورمسلح افواج ہاتھ پر ہاتھ دھری بیٹھی رہیں گی، یہ ناممکن ہے بلکہ گناہ کبیرہ ہے۔ یوم دفاع اور شہدا کی پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج پر تنقید عوام اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، ایک جعلی بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، اور اب اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع اور شہدا کی پُروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بطور آرمی چیف آپ سے آخری بار خطاب کررہا ہوں، میں عنقریب ریٹائر ہو رہا ہوں۔ پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا کہ آرمی کمان کے 6 سالہ مدت میں ہزاروں شہدا کے گھروں پر تعزیت کے لیے گیا، میں نے ہمیشہ ان کے حوصلے کو بلند پایا، جس نے میرے حوصلے کو بھی تقویت بخشی، میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی قربانیوں کا سلہ نہیں دے سکتے، لیکن آپ کے پیاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ 6 سال اس عظیم فوج کا سپہ سالار رہا، میں دعا کرتا ہوں کہ آنے والے وقت میں بھی فوج اسی طریقے سے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے کہا کہ پاک فوج کا بنیادی کام ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے لیکن پاک فوج ہمیشہ استعداد سے بڑھ کر قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے، ریکوڈک کا معاملہ ہو، یا کارکے کا جرمانہ، ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹ میں پاکستان کو ڈلوانا، بارڈر پر باڑ لگانا، قطر سے سستی گیس مہیا کرانا، یا دوست ممالک سے قرض کا اجرا، کووڈ کا مقابلہ ہو یا ٹڈی دل کا خاتمہ، زراعت کے درمیان امدادی کارروائی ہو، فوج نے بڑھ کر قوم کی خدمت کی ہے، اور انشا اللہ کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود فوج اپنے بنیادی کام اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے کبھی غافل نہیں ہوگی۔ پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ میں آج ایسے موضوع پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں جس پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہ بات 1971 میں ہماری فوج کی سابقہ مشرقی پاکستان میں کارکردگی سے متعلق ہے، میں حقائق درست کرنا چاہتا ہوں، سب سے پہلے سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی، لڑنے والے فوجیوں کی تعداد 92 ہزار نہیں صرف 34 ہزار تھی، باقی لوگ مختلف حکومتی محکموں میں تھے، ان کا مقابلہ ڈھائی لاکھ بھارتی فوج اور2 لاکھ تربیت یافتہ مکتی باہنی سے تھا، ہماری فوج بہادری سے لڑی اور بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ جس کا اعتراف خود بھارتی آرمی چیف فیلڈ مارشل مانک شاہ نے بھی کیا ہے، ان بہادر غازیوں اور شہیدوں کی قربانیوں کو آج تک قوم نے اعتراف نہیں کیا جو کہ بہت بڑی زیادتی ہے، میں ان تمام غازیوں اور شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آخر میں کچھ باتیں آج کے سیاسی حالات کے متعلق کرنا چاہوں گا، میں کافی سالوں سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی بھارتی فوج کرتی ہے لیکن ان کے عوام کم و بیش ہی ان کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے، اس کے برعکس پاکستانی فوج جو دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے، گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ 70 سال سے فوج کی مختلف صورتوں میں سیاست میں مداخلت ہے جو کہ غیر آئینی ہے، اس لیے پچھلے سال فروری نے فوج میں سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی، میں یقین دلاتا ہوں کہ اس پر سختی سے کاربند ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، تاہم اس آئینی عمل کا خیر مقدم کرنے کے بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر بہت غیر مناسب اور غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ فوج پر تنقید عوام اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، ایک جعلی بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی، اور اب اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فوج کی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جاسکتی، کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک بیرونی سازش ہو اورمسلح افواج ہاتھ پر ہاتھ دھری بیٹھی رہیں گی، یہ ناممکن ہے بلکہ گناہ کبیرہ ہے۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈال دیں گے، وہ بھی ہمیشہ ناکام ہوں گے، فوج کی قیادت کے پاس اس نا مناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے بہت سے مواقع اور وسائل موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا لیکن یہ بات سب کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس صبر کی بھی ایک حد ہے، میں اپنے اور فوج کے خلاف اس نامناسب اور جارحانہ رویے کو درگزر کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہوں کیونکہ پاکستان ہم سب سے افضل ہے، افراد اور پارٹیاں تو آتی جاتی رہتی ہیں لیکن پاکستان نے انشا اللہ ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نے تو اپنا کتھارسس شروع کر دیا ہے، مجھے امید ہے سیاسی جماعتیں اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گی، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہر ادارے اور سول سوسائٹی سے بھی غلطیاں ہوئیں، ہمیں ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔ آرمی چیف نے کہا کہ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان آج سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے، اور کوئی بھی ایک پارٹی پاکستان کو اس معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی جس کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی ذاتی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے ماضی کی غلطیوں سے سیکھے اور آگے بڑھے اور پاکستان کو اس بحران سے نکالے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں جمہوریت کی روح کو سمجھتے ہوئے عدم برداشت کی فضا کو ختم کرتے ہوئے پاکستان میں سچا جمہوری کلچر اپنانا ہے، 2018 کے انتخابات میں بعض پارٹیوں نے آر ٹی ایس کے بیٹھنے کو بہانہ بنا کر جیتی ہوئی پارٹی کو سلیکٹڈ کا لقب دیا، اور 2022 میں اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو امپورٹڈ کا لقب دیا، ہمیں اس رویے کو رد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہار جیت سیاست کا حصہ ہے اور ہر جماعت کو اپنی فتح اور شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا تاکہ اگلے انتخابات میں ایک امپورٹڈ یا سیلکٹڈ حکومت کے بجائے منتخب حکومت آئے، جمہوریت حوصلہ، برداشت اور عوام کے رائے عامہ کے احترام کا نام ہے، اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو ہمیں عدم برداشت اور میں نہ مانوں کہ رویے کو ترک کرنا ہوگا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ معزز حاضرین ہمارے لیے پاکستان نعمت خداوندی ہے، ہمارا وجود اس کی سلامتی اور بقا سے وابستہ ہے، اس کی آزادی اوراستحکام کے لیے شہدا نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے، میں شہدا کے لواحقین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس تقریب میں آ کر اس تقریب کو رونق بخشی، آپ سب پوری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں، یہ تجدید عہد کا دن ہے، آئیے مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے شہدا اور غازیوں کی تابندہ تاریخ کو زندہ رکھیں گے، اور مل کر پاکستان کی بہتری اور ترقی میں اپنا کردا ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مادر وطن کی حفاظت اور سالمیت ہمارا اولین فرض ہے اور رہے گا، جس کو نبھانے کے لیے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو، پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔ خیال رہے کہ یہ تقریب ہر سال 6 ستمبر کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 1965 کی جنگ کے شہید ہونے والے ہیروز کی قربانیوں کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے، تاہم اس سال ملک بھر کے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، اس کے بعد حالیہ تباہ کن سیلاب اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی چلائی گئی، جس میں سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا، اس ویڈیو میں پاک فوج کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی کوششوں کو بھی دکھایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں