تمام آئل ریفائنریزبند ہونےکا خدشہ

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) نے آپریشنل اور گنجائش کی رکاوٹوں کی وجہ سے عارضی طور پر اپنی پیداوار بند کردی ہے۔پی آر ایل کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے بتایا کہ کمپنی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے پر اپنا آپریشن بند کرنے پر مجبور ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے ایندھن لینے سے انکار کردیا جن کے پاس ہنگامی حالات کا بھی ذخیرہ ہے۔شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ چونکہ پاور سیکٹر مقامی ریفائنریز سے ایندھن نہیں لے رہا اس وجہ سے تقریباً سب کے پاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہو رہی ہے اور بتدریج مزید پیداوار بند کی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کرایے کے ذخیرے کی بہت لاگت ہے اس لیے کوئی اس میں دلچسپی نہیں رکھتا سوائے اس کمپنی کے جس کا ایندھن تیل برآمد کرنے کا ارادہ ہو۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاور ڈویژن نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے مقامی ریفائنریز کے خرچ پر بھاری مقدار میں ریفائنڈ تیل درآمد کرنے کے ساتھ معاملات میں گڑبڑ کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کا کہنا ہے کہ ’ان کے پاس پی ایس او کو ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں کیوں کہ انہیں ان کے واجبات نہیں دیے گئے، چنانچہ پی ایس او انہیں تیل کی فراہمی سے گریزاں تھا۔انہوں نے پیش گوئی کی کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو آئندہ 15 روز میں تمام ریفائنریز بند ہوجائیں گی۔رواں ماہ کے اوائل میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے ایک خط میں خبردار کیا تھا کہ اگر بجلی کی پیداواری کمپنیوں اور آئی پی پیز کی جانب سے پروسیسڈ ایندھن اٹھانے میں ناکامی پر ریفائنریز خام تیل کی پروسیسنگ کم کرنے پر مجبور ہوگئیں تو پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ہوسکتی ہے۔آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سی) خسارے کے حجم کو درآمد کرنے سے پہلے ریفائنری سے تیار شدہ مصنوعات استعمال کرتی ہیں۔لیکن بجلی کی پیداواری کمپنیوں اور آئی پی پیز نے وعدہ کی گئی مقدار نہیں اٹھائی جس کی وجہ سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذخیرے میں اسٹاک جمع ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں