تحریک عدم اعتمادمسترد،وزیراعظم کی تجویز پر صدرمملکت نےقومی اسمبلی تحلیل کردی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو پہلے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی سربراہی میں اسمبلی ہونے والے ہنگامہ خیز اجلاس میں وزیر قانون فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو ایک میٹنگ ہوتی ہے اور اس کے ایک روز بعد 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو ایک میٹنگ میں طلب کیا جاتا ہے، اس میں دوسرے ممالک کے حکام بھی بیٹھتے ہیں، ہمار ےسفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاری ہے، اس وقت تک پاکستان میں بھی کسی کو پتہ نہیں تھا کہ تحریک عدم اعتماد آ رہی ہے۔ وفاقی وزیر کے اظہار خیال کے بعد ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت کسی بھی غٖیر ملکی طاقت کے کہنے پر حکومت تبدیل نہیں کی جا سکتی لہذا اپوزیشن کی 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جاتا ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے کے بعد قوم سے مختصر خطاب میں عمران خان نے سب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز بھیج دی ہے، قوم اگلے الیکشن کی تیاری کرے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کر دی وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد صدر مملکت نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں