تحریک طالبان پاکستان اورحکومت کےدرمیان مذاکرات

تحریک طالبان پاکستان کے امیر نور ولی محسود نے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ ان کی جماعت اور حکومت پاکستان کے درمیان افغانستان میں مذاکرات ہو رہے ہیں اور افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہیں نور ولی موسیٰ نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت پاکستان سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے اور انہوں نے اپنے مجاہدین کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج پر حملے جاری رکھیں۔ واضح رہے کہ دو دن قبل وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ
حکومت نے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا ہے جس کی تصدیق وزیراعظم عمران خان نے ایک ترک ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران کی تھی ۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم وہ اس کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ طالبان گروپ حکومت سے امن کی خاطر بات کرنا چاہتے ہیں ہم ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں اور ہتھیار ڈالنے اور حکومت کی جانب سے معافی کی صورت میں وہ عام شہری بن جائیں گے۔اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر تحریک طالبان کے شدت پسند اپنی کارروائیاں چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں تو حکومت انہیں معاف کر سکتی ہے۔وزیرداخلہ شیخ رشید سےجب اس حوالے سے پوچھا گیا کہ کیا ریاست ان لوگوں کو معاف کرسکتی ہے جن کے ہاتھ ہزاروں بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوں تو ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان کے 300 تا 500 ایسے لوگ ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی اور آرمی پبلک اسکول جیسے بڑے حملوں میں براہ راست ملوث ہیں انہیں کسی صورت معافی نہیں ملے گی۔شاہ محمود قریشی کے بیان پر ردعمل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان نے حکومت پاکستان کی جانب سے معافی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے جبکہ ہماری جد و جہد کا مقصد پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔وزیراعظم کے بیان کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی نے دوبارہ اپنے اسی موقف کا اعادہ کیا ہے اور کہا کہ بامعنی مذاکرات کے متعلق ہماری پالیسی واضح ہے اور تحریک طالبان پاکستان نے کہیں پر بھی فائربندی کا اعلان نہیں کیا۔
اگرچہ عمران خان کے بیان میں فائربندی کا ذکر نہیں تھا مگر کل شام کو بعض نشریاتی اداروں نے وزیرستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے سیزفائر کی خبریں دی تھیں۔اگرچہ عمران خان نے کسی مخصوص گروپ کا نام نہیں لیا لیکن ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کے جاری مذاکرات تحریک طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہورہے ہیں جو پاکستان میں بہت کم حملوں میں ملوث ہے اور اس میں سہولت کار حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ہیں جن کے اس گروپ کے ساتھ پہلے سے اچھے تعلقات ہیں۔
سن 2007 میں وجود میں آنے والی تحریک طالبان پاکستان تنظیم کے بانی بیت اللہ محسود کی سربراہی میں 2 سال تک متحد رہی تاہم سن 2009 میں بیت اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ٹی ٹی پی میں قیادت کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات سے تنظیم میں دھڑے بندی کا آغاز ہوگیا۔ٹی ٹی پی میں پہلی مرتبہ حکیم اللہ محسود اور مولانا ولی الرحمٰن کے نام سے الگ الگ گروپ کا وجود عمل میں آیا تاہم اب کالعدم ٹی ٹی پی تقریباً درجن گروپوں میں تقسیم ہے جن میں سے 3 گروہوں نے حال ہی میں دوبارہ ٹی ٹی پی میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے۔ریاست پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ماضی میں کئی دفعہ مذاکرات ہوچکے ہیں جن میں سب سے پہلے مذاکرات شکئی میں ہوئے جسے شکئی معاہدہ بھی کہتے ہیں۔حکومت نے سن 2004 میں یہ معاہدہ پاکستان میں ڈرون حملے کے پہلے شکار کالعدم تنظیم کے بانی نیک محمد کے ساتھ کیا تھا تاہم وہ معاہدہ پاکستان آرمی پر دوبارہ حملوں کے بعد ختم ہوگیا۔اس کے بعد سن 2007 میں بھی حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ کے مقام پر مذاکرات کے بعد ایک امن معاہدہ طے پایا تھا مگر بیت اللہ محسود گروپ کی جانب سے سراروغہ میں واقع سکاؤٹس قلعے پر حملے کے بعد وہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا۔حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان سن 2009 میں تیسرا معاہدہ سوات میں طے پایا جس میں صوفی محمد اور حکومت کے درمیان شریعت نفاذ محمدی کا معاہدہ ہوا تھا اور پھر اس کے کچھ ہی عرصے بعد فوجی آپریشن کی شروعات کے ساتھ ہی وہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔
حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان چوتھا معاہدہ سن 2008 میں خیبر ایجنسی میں منگل باغ کے ساتھ ہوا تھا لیکن یہ معاہدہ بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکا۔کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی ایک اور کوشش سن 2013 میں بھی کی گئی تھی مگر وہ مذاکرات کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے اور مذاکرات کے ناکامی پر ایک بار پھر فوجی آپریشن شروع کردیا گیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں