بیانِ حلفی کا مقصدریکارڈ کو درست رکھنا تھا،رانا شمیم

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے انکشاف کیا کہ 6 ماہ قبل ان کی اہلیہ سمیت ان کے 5 قریبی رشتہ داروں کے انتقال کے بعد انہوں ریکارڈ درست رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے حلف نامہ لکھا۔انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) سے درخواست کی ہے کہ سابق چیف جسٹس آپ پاکستان جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار سے جوابی حلف نامہ طلب کرے۔توہین عدالت کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں رانا شمیم نے حلف نامے میں لکھے گئے مواد کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال 10 نومبر کو حلف نامے پر دستخط کیے تھے اور اسے سیل لفافے میں رکھا تھا، اور لفافہ اپنے نواسے کو دیا تھا جو اس وقت برطانیہ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاک امریکن لائرز فار سول اور لیگل رائٹس کے منعقدہ سمپوزیم میں شرکت کرنے امریکا گیا تھا جہاں اسے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے 17 نومبر کو واپس لوٹنا تھا لیکن 6 نومبر کو اسے اپنے بھائی کے انتقال کی بری خبر موصول ہوئی جس کے سبب وہ اپنا دورہ ختم کر کے 7 نومبر کو واپس پاکستان آنے کے لیے نکلا ۔رانا شمیم نے مزید کہا کہ اس وقت ان کے نواسے کو براہِ راست پاکستان کی پرواز نہیں مل سکی تھی لہذا وہ براستہ لندن پاکستان آیا تھا، وہ 8 نومبر کو لندن پہنچا اور لندن سے براستہ دبئی کراچی کی پرواز میں سوار ہوا۔درخواست کے مطابق جی بی کے سابق چیف جج اپنے بھائی کی موت کی خبر ملنے سے پہلے ہی کافی جذباتی دباؤ کا شکار تھے۔ان کے بھائی کی بیوی اگست 2021 میں انتقال کر گئی تھی، انکے چچا کا انتقال 5 جولائی 2021 کو ہوا، ان کی اہلیہ 4 جون کو جبکہ ان کی بھابھی 31 مارچ انتقال کر گئی تھیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ رانا شمیم ‘اپنے خاندان کے اراکین کو کھونے کے دباؤ میں ہیں، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے ذہن میں موجود واقعات کو جلد از جلد تحریر کردیا جائے، اپنی اہلیہ کی خواہش پر اور لندن میں ان کے قیام کے دوران انہوں نے یہ فیصلہ کیا’۔رانا شمیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 15 جولائی 2018 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس وقت ‘ایک مقدمے کے ایک فریق جسٹس ثاقب نثار ہیں سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ تھے جو واقعے کے ایک ماہ بعد ریٹائرڈ ہوگئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقع پاکستان سے باہر پیش آیا تھا۔رانا محمد شمیم نے ان کے خلاف آئی ایچ سی کے فیصلے کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجرمانہ اقدام کے بنیادی اصول ثابت کیے بغیر ان پر توہین عدالت کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ’ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ حلف نامے میں درج حقائق کی تصدیق تحقیقات کے ذریعے کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا جوابی حلف نامہ بھی تحقیقات کے لیے پیش کیا جائے اور مدعا علیہ کو جرح کا موقع دیا جائے۔رانا شمیم کی جانب سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے تقرر کے خلاف ایک اور درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ ان کا رویہ کینہ پرور ظاہر ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں