مسلمانوں کی بھارتی شہریت ختم کردی جائے،انتہاپسندہندورہنما کاحکومت سےمطالبہ

ہندو کے انتہا پسند سنت پرم ہنس آچاریہ مہاراج نے 2 اکتوبر سے قبل بھارت کو ’ہندو ریاست‘ قرار دے کر تمام مسلمانوں اور عسائیوں کی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے- بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور ظلم کو بربریت کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ہندو مذہب کے پیشواؤں کی نفرت انگیز تقاریر اور مطالبے ہیں۔حال ہی میں ایودھیا کے سنت جگد گرو پرم ہنس آچاریہ مہاراج کی جانب سے وفاقی حکومت سے انتہائی تعصب پر مبنی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر 2 اکتوبر پر بھارت کو ہندو ریاست قرار نہ دیا گیا تو سریو ندی میں ’جل سمادھی‘ لے لوں گا۔جل سمادھی ہندی زبان کا لفظ ہے، کسی شخص کے اپنی مرضی سے پانی میں ڈوب کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے جل سمادھی لینا کہتے ہیں۔پرم ہنس مہاراج نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ملک میں رہنے والے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کی شہریت کو ختم کر دیا جائے۔خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پرمہنس نے اس طرح کی ہرزہ سرائی کی ہے بلکہ وہ اس سے قبل بھی ایسے نفرت انگیز مطالبات کرچکے ہیں۔
اس سے قبل پرم ہنس مہاراج ہندو ریاست قرار دینے کے معاملے پر 15 روزہ بھوک ہڑتال بھی کرچکے ہیں جس کا خاتمہ انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کیا تھا جس میں امیت شاہ نے پرم ہنس کو بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں