بھارتی عدالت نےمسلمانوں کی نسل کشی کامطالبہ کرنےوالے پنڈت کوجیل بھیج دیا

بھارتی عدالت نے مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرنے والے پنڈت کو جیل بھیج دیا-پولیس کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے ہندو پنڈت پر مذہبی تشدد کا الزام عائد کیا ہے، پنڈت نے دائیں بازو کے حمایتوں کے اجلاس میں بھارت کے مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کیا تھا۔سینئر پولیس افسر سوانترا کمار نے کہا کہ نرسینگھ انند گری قوم پرستوں کا بے باک حمایتی ہے اور ہندو پنڈیتوں کی جماعت کا رہنما ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزم کو ہفتے کو خاتون کے لیے توہین آمیز الفاظ کے استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اسی ہی روز اسے ہریدوار کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقریر اور تشدد کے مطالبے پر 14 روز کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا۔سوانترا کمار کا کہنا تھا کہ پنڈت جسے بارہاں مجرم قرار دیا گیا ہےاس پر گزشتہ روز مختلف مذہبی گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے پر فرد جرم عائد کی گئی،بھارتی قوانین کے تحت ملزم کو مذکورہ الزام میں پانچ سال قید کی سزا کاٹنی ہوگی۔گزشتہ سال دسمبر میں ہریدوار میں ایک اجلاس کے دوران اسی پنڈت نے دیگر مذہبی رہنماؤں کے ہمراہ مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے خود کو مسلح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔پولیس کی شکایت کے مطابق شمالی ہولی ٹاؤن میں یہ دوسرا شخص ہے جسے گزشتہ ہفتے بھارتی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں