بولیویا:پانی میں اگنے والا سوسن کا سب سے بڑا پودا دریافت

بولیویا کی دور دراز آب گاہوں میں پایا جانے والا واٹر للی (سوسن) کا سب سے بڑا پودا دریافت ہوا ہے جس کا پتہ وسیع ترین ہے اور ساتھ میں یہ ایک نئی نوع (اسپیشیز) بھی ہے جسے وکٹوریا بولیویانا کا نام دیا گیا ہے۔ کنول کی طرح پھیلنے والا اس کا پتہ لگ بھگ 3.2 میٹر وسیع ہے اور دوم اس کا پھول انسانی ہاتھ سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ برطانیہ میں کیو گارڈن سے وابستہ سائنسداں نتالیا زولیمسکا نے بتایا کہ اگر اس کا پتہ اٹھایا جائے تو اس کا وزن لگ بھگ ایک نومولود بچے جیسا ہوتا ہے۔ نظری طور پر اس کا ایک پتہ 80 کلوگرام انسان کا وزن سہار سکتا ہے۔ اگرچہ اب تک اس کی آزمائش نہیں کی گئی ہے۔ 2016 میں واٹر للی کے بعض بیج برطانیہ پہنچائے گئے تھے جنہیں کیو گارڈن میں کاشت کیا گیا تھا۔ انہیں ایک ماہرِ نباتیات کارلوس مگڈالینا نے اگایا تھا۔ لیکن جلد ہی انہیں یہ احساس ہوا کہ اگنے والے پودے اصل سے مختلف ہیں۔ 2019 میں وہ بولیویا گئے جہاں جنگل کے فطری ماحول میں واٹر للی کا مطالعہ کیا۔ بولیویا کے شمال مشرقی دریاؤں، تالاب اور آبگاہوں میں یہ پودا بکثرت اگتا ہے اور ماہرین اس کی غیر معمولی جسامت کو ایک معمہ ہی سمجھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ دیگر پودوں سے مقابلہ کرتے ہیں اور اس کاوش میں خوب پھلتے اور پھیلتے ہیں۔ سائنس کے مطابق منطقہ حارہ کے خطوں میں حیاتیاتی تنوع بہت زیادہ ہے۔ جیسے ہی بارشیں ہوتی ہیں واٹر للی کھل اٹھتے ہیں اور سورج کی دھوپ پاکر بہت تیزی سے پروان چڑھتے ہیں۔ ماہرین نے وکٹوریا بولیویانا کا پورا جینوم بھی معلوم کیا ہے اور اس میں چار ارب کے قریب اساسی جوڑے (بیس پیئر) معلوم کیے ہیں۔ جینیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ وکٹوریا بولیویانا کوئی 50 لاکھ سال پہلے ایک اور قسم وکٹوریا ایمیزونیکا نے الگ ہوا تھا۔ تاہم افسوس ناک خبر یہ ہے کہ اس پودے کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ اس نایاب پودے کو بچانا بہت ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں