بلاول نے یوسف رضا گیلانی کا استعفیٰ قبول کرنےسےانکار کر دیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہد سے یوسف رضا گیلانی کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زردای نے کہا کہ یوسف گیلانی کی جمہوریت کے لئے خدمات جمہوریت پسندوں کے لئے روشن مثال ہیں، پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے کہ جس کے نمائندگان خود کا احتساب کرتے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے ہمیشہ جمہوریت کے لئے جدوجہد کی یہاں تک کہ عوام کی خدمت کے جرم میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے سٹیٹ بینک ترمیمی بل کے حوالے سے متعصبانہ کردار پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے حکومت سے ملی بھگت کرکے سٹیٹ بینک ترمیمی بل کو منظور کروایا۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ میں مخالفین کے سخت الفاظ پر حیران نہیں ہوں، اپنی جماعت کی خاموشی سے رنجیدہ ہوا ہوں۔ پارلیمنٹ ہاوس میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے اپنے کون ہیں یہ تلاش کرنا میڈیا کا کام ہے میرا نہیں۔ اگر اور مگر سے تاریخ نہیں بنتی، ہماری جماعت میں جمہوریت ہے، خود پر ہونے والی تنقید کا احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کا بل جب پہلی بار قومی اسمبلی میں آیا تو 13 ممبرز موجود نہیں تھے، سینٹ میں 11 اراکین غیر حاضر تھے، غیر خاصر ہونے پر کسی ممبر کی نیت پر شک نہیں کر رہا۔ رات کے ایک بجے شب خون مار کر ایجنڈا لے آئیں گے تو صبح 10 بجے کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ جس طرح اسٹیٹ بینک کا بل لایا گیا، یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ہے۔ میں خود سپیکر رہا ہوں، جب بھی بل لانا ہوتا تھا تو پہلے ایڈوائزری کمیٹی میں بات کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک کا اتنا اہم بل سینٹ ایڈوائزری کمیٹی میں لایا نہیں گیا، چیئرمین سینٹ نے روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فائدہ پہنچانے کے لیے آدھے گھنٹے کے لیے اجلاس موخر کیا گیا، اگر میں ایوان میں موجود بھی ہوتا تو اسٹیٹ بینک بل پر رائے شماری ملتوی کر دی جاتی۔ ہماری اور اپوزیشن کی پالیسی ایک ہے۔ ہم اپنا لانگ مارچ موثر انداز میں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں