بغیرعدت دوسری شادی زنا نہیں،لاہورہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے پہلی شادی ختم ہونے کے بعد عدت گزارے بغیردوسری شادی کو بےقاعدہ شادی قرار دے دیا تاہم بغیر عدت دوسری شادی کو زنا قرار دینے کی درخواست خارج کردی۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے امیر بخش کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔درخواست گزار نے سابقہ بیوی کی عدت پوری کئے بغیر دوسری شادی پر زنا کے مقدمے کے لیے رجوع کیا تھا۔درخواست گزارامیر بخش نے موقف اختیار کیا تھا کہ پہلی بیوی نے فیملی عدالت سے خلع کی یک طرفہ ڈگری لے کراگلے روز اسماعیل سے نکاح کرلیا تھا۔لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنایا کہ عدت گزارے بغیرخاتون کے دوبارہ نکاح کو باطل قرار نہیں دیا جاسکتا، مسلم پرسنل قانون کےتحت بےقاعدہ نکاح کے اپنے نتائج ہوسکتے ہیں۔جسٹس علی ضیاء باجوہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزارکے موقف کو درست مان بھی لیا جائے تب بھی عورت کا دوبارہ نکاح کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔عدت مکمل کئے بغیر نکاح کرنے والے جوڑے کو زنا کا مرتکب قرار نہیں دیا جاسکتا۔۔جسٹس علی ضیاء باجوہ کے فیصلے میں سورہ البقرہ کی آیت نمبر 229 اور سپریم کورٹ کے فیصلوں حوالے بھی دیئے گئے اور واضح کیا گیا کہ بے قاعدہ نکاح کی بنیاد پر آمنہ بی بی اور اسماعیل کی شادی کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا

اپنا تبصرہ بھیجیں