بجلی کےبلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے نیپرا چیئرمین بھی پریشان

بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹس سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین بھی پریشان ہوگئے اور کہا کہ وہ خود اپنا ماہانہ بل دیکھ کر چونک گئے۔نیپرا میں نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر سماعت ہوئی۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے چیئرمین نیپرا بھی پریشان ہوگئے اور دوران سماعت ریمارکس دیے کہ انہوں نے جب اپنا بل دیکھا تو وہ چونک گئے۔انہوں نے کہا کہ جن کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بہت زیادہ لگ کر آئی ہے وہ نیپرا دفاتر سے رجوع کریں۔دوران سماعت نیپرا حکام نے کہا کہ نومبر میں ریفرنس کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ بجلی پیدا کی گئی جبکہ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے 26 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے 6 کروڑ 23 لاکھ روپے سے زائد کا بوجھ پڑا اور ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی قلت سے 5 کروڑ 57 لاکھ روپے کا بوجھ پڑا۔چیئرمین نیپرا نے سوال کیا کہ کوئلے سے 11 فیصد کم بجلی کیوں پیدا کی گئی؟ نیشنل پاور کنسٹرکشن کارپوریشن (این پی سی سی) حکام نے بتایا کہ حب چائنہ پاور یونٹ، اینگرو تھر اور دیگر کول پاور پلانٹس بھی بند ہیں جبکہ پلانٹس کے شیڈول بندش کی منِظوری پہلے دی جاتی ہے۔چیئرمین نیپرا نے کہا کہ زمینی حقائق دیکھ کر پلانٹس کی شیڈول بندش کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے، ایسا کرتے ہیں ہم پلانٹس کا تین سال کا آڈٹ کراتے ہیں۔نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ بجلی کی کھپت میں 400 سے500 میگاواٹ اضافہ ہوا ہے۔نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) حکام نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری کے 32 ارب روپے سے زائد کے منصوبے زیر تکمیل ہیں اور آئندہ سیزن میں پندرہ سے اٹھارہ فیصد زیادہ بجلی ترسیل کی جاسکے گی۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ میرٹ کی خلاف ورزی کرکے فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا نہیں کر سکتے، ریفائنریز اپنا کمرشل سسٹم بہتر کریں، صرف ریفائنریاں چلانے کا بوجھ پاور سیکٹر نہیں اٹھا سکتا۔چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ریفائنریز کو چلانے کے لیے مہنگی بجلی پیدا نہیں کر سکتے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ریفائنریاں چلانے کے لیے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا نہ کریں۔نیپرا نے نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک ماہ کے لیے بجلی 4 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا، جو 6 ارب روپے کی سابقہ ایڈجسٹمنٹس کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائے گا۔واضح رہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے 19 دسمبر کو نومبر کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 116 فیصد یعنی 4 روپے 33 پیسے فی یونٹ (کلو واٹ آور) بجلی مہنگی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس سے 36 ارب روپے کے اضافی فنڈز حاصل ہوں گے۔یہ بہت زیادہ عام ہوگیا ہے کہ حکومت اور ریگولیٹر کی طرف سے منظور شدہ ایندھن کی حوالہ جاتی قیمتیں انتہائی غیر حقیقی نکلتی ہیں جو ان کے معاشی اور مالیاتی تجزیے کی مہارت پر سوالیہ نشان ہے۔حالیہ مہینوں میں ایندھن کی اصل لاگت حوالہ جاتی قیمتوں سے 44 سے 58 فیصد تک بلند رہیں لیکن پہلی مرتبہ ہے کہ قیمتوں کا فرق تقریباً 115 فیصد ہے۔اس کے نتیجے میں غیر ملکی قرض دہندگان کے کہنے پر بجلی کے بنیادی ٹیرف میں بار بار اضافے کے علاوہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے صارفین کو قیمتوں کے اچانک جھٹکے لگتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں