ایک ہزارسےزیادہ ٹانگوں والا کنکھجورا دریافت

آسٹریلوی اور امریکی سائنسدانوں نے زمین کی 60 میٹر گہرائی میں ایک ایسا کنکھجورا دریافت کرلیا ہے جس کی 1,306 ٹانگیں ہیں۔ یہ اب تک کسی بھی جانور میں ٹانگوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی ہے۔اس سے پہلے سب سے زیادہ ٹانگوں کا عالمی ریکارڈ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پائے جانے والے ایک اور کنکھجورے ’’الاکمی پلینی پیز‘‘ کے پاس تھا جس کی 750 تک ٹانگیں ہوتی ہیں۔ نئے دریافت ہونے والے کنکھجورے میں اس سے بھی 556 ٹانگیں زیادہ ہیں جو بہت بڑا فرق ہے۔ یہ کنکھجورا اگست 2020 میں آسٹریلیا کے علاقے ’’ایسٹرن گولڈ فیلڈز‘‘ میں معدنیات پر تحقیق کےلیے کھدائی کے دوران 60 میٹر گہرائی سے نکلا تھا۔ یہ دھاگے جیسا پتلا اور لمبا دکھائی دیتا ہے۔مزید کھدائی سے اس کنکھجورے کے مزید چار زندہ نمونے برآمد ہوئے جنہیں سائنسدانوں نے محفوظ کرلیا۔جب ان کی جسمانی اور جینیاتی (جنیٹک) ساخت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ کنکھجورے کی ایک نئی نوع ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔لہٰذا اسے ’’یوملیپیس پرسیفون‘‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے جو یونانی زبان میں ہے اور جس کا مطلب ’’اصلی ہزار پیروں والی پرسیفون‘‘ ہے۔ (یونانی دیومالائی داستانوں میں ’پرسیفون‘ نام کی ایک دیوی کا تذکرہ بھی ملتا ہے جو زمین کی اتھاہ گہرائی یعنی ’پاتال‘ میں رہتی ہے۔مزید تفصیلات کے مطابق، اس نودریافتہ کنکھجورے کی چوڑائی صرف 0.95 ملی میٹر (ایک ملی میٹر سے بھی کم)، جبکہ لمبائی 95.7 ملی میٹر ہے۔ یعنی چوڑائی کے مقابلے میں اس کی لمبائی 100 گنا زیادہ ہے۔اس کا جسم 330 قطعات سے مل کر بنا ہے جبکہ اس کی ٹانگیں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں جو خردبین ہی سے نمایاں دیکھی جاسکتی ہیں۔یوملیپیس پرسیفون کی ٹانگیں گول اور نوکیلی ہیں لیکن اس کی آنکھیں نہیں۔ اس کے سر پر چونچ جیسی ساخت ہے جس پر انٹینا موجود ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں