ایک دہائی بعدپاکستان سےپہلی مال بردار ٹرین13 روزبعد ترکی پہنچ گئی

استبول اور اسلام آباد کے درمیان ایک دہائی بعد چلنے والی ٹرین لاہور، تفتان، اور زاہدان سے ہوتی ہوئی انقرہ پہنچ گئی، مال بردار ٹرین نے اپنے 17 روز کا سفر 13 روز میں مکمل کیا جبکہ دوسری ٹرین بھی ترکی کے راستے پر رواں ہے۔ پاکستان ریلوے ڈائریکٹر (آپریشنز) امتیاز احمد کے مطابقہ ’21 دسمبر کو اسلام آباد سے پہلے مال بردار ٹرین روانہ ہوئی، جو پیر کی شام انقرہ (ترکی) پہنچی، جس میں دیگر سازو سامان کے ساتھ بڑی تعداد میں پنک نمک بھی بڑی تعداد میں موجود تھا۔انہوں نے بتایا کہ منزل پر پہنچنے سے قبل ٹرین میں موجود سامان کو ایرانی، ترک ریل گیج سسٹم کے ذریعے دوسری بوگیوں میں منتقل کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرین 8 ویگنز پر مشتمل ہے جس میں 150 ٹنز پنک نمک موجود ہے۔ امتیاز احمد نے مزید بتایا کہ دوسری ٹرین 28 دسمبر کو بندرگاہ پہنچی جس میں 525 ٹن صابن کے پتھر موجود تھے، یہ ٹرین ایران میں داخل ہوچکی ہے اور جلد ہی زاہدان پہنچ جائے گی، جہاں ترسیل سے متعلق دیگر کام مکمل کیا جائےگا۔ایک سوال کے جواب میں استنبول، تہران، اسلام آباد (آئی ٹی آئی) کے ترجمان امتیاز احمد نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے پہلی ٹرین سے 8 لاکھ اور دوسری ٹرین سے 22 لاکھ روپے کمائے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران صرف راستہ فراہم کرنے والے ملک کےطور پر استعمال ہوگا اور پاکستان سےلوڈ کیے جانے والے تمام سازو سامان کی ترسیل ترکی میں ہی کی جائے گی۔پنک سالٹ سرگودھا سے ٹرک میں لوڈ کرکے اسلام آباد میں آئی ٹی آئی ٹرین تک منتقل کیا گیا جبکہ صابن کے پتھر جلال آباد (افغانستان)سے خریدے گئے اور فریٹ بھیجنے والوں نے اسے خریداروں کےمطالبے کے مطابق آئی ٹی آئی پر بُک کیا۔امتیاز احمد نے مزید کہا کہ تیسری ٹرین بھی جلد ہی ترکی کے لیے روانہ ہوگی، اسے مال بردار ٹرین بھیجنے والوں کی جانب سے لوڈ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ پاکستان سے ترکی مختلف ساز و سامان بھی بھیجا جائے گا، اور مال بردار ٹرین بھیجنے والے اس پر کام کر رہے ہیں‘۔ تقریباً 10 سال کے طویل عرصے کے بعد ترکی سے 4 مارچ 2020 کو آئی ٹی آئی ٹرین سروس بحال ہوئی جو 16 مارچ کو پاکستان پہنچی اور تین روز بعد اسے دوبارہ ترکی روانہ ہونا تھا۔تاہم اس سلسلے میں مبینہ طور پر عدم انتظامی، غفلت اور تاخیر کے مسائل کے باعث متعلقہ حکام تشویش کا شکار ہیں، ایران اور ترکی کو پاکستان سے آنے والے سیکڑوں ٹن کے سامان کے آرڈر معطل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔پاکستان ریلوے فریٹ اینڈ ٹرانسپورٹیشن کمپنی کے ڈائریکٹر (کمرشل) ان دونوں ممالک کے لیے اطمینان بخش خدمات انجام دینے سے متعلق بد انتظامی اور معطلی کے الزامات کو معطل کردیا ہے۔معاشی تعاون ادارے (ای سی او) سیکریٹریٹ کی تینوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ سروسز کی بحالی پر ملاقتیں جاری ہیں، لیکن اس میں مختلف فریٹ کرایوں کا مسئلہ، کوئٹہ سے تفتان ٹریک کی مرمت، پاکستان میں مال بردار ٹرین بھیجنے والے ایجنٹس کی تعیناتی، کے ساتھ ساتھ امریکا کی ایران پر ٹرانسپورٹیشن روکنے سے متعلق پابندیوں اور سامان کی ترسیل روکنے سے متعلق مسائل زیر غور ہیں، جنہیں اب تک حل نہیں کیا جاسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک خاص ٹیم تشکیل دی ہےتاکہ پاکستان ریلوے کے انٹرنیشنل ریل آپریشنز نگرانی کی جاسکے اور باآسانی سازو سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جاسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں