ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو ملک میں فوری انتخابات کرانے کامشورہ دے دیا

ایم کیو ایم نے وزیر اعظم شہباز شریف کو ملک میں فوری انتخابات کرانے کی تجویز دی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ایم کیو ایم رہنماؤں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت اس وقت فوری انتخابات کی حمایت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کرتی ہے۔ایم کیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق حکومت امیر اور غریب میں تفریق رکھے، موٹر سائیکل والوں کے لئے قیمت الگ اور جو گاڑیوں کی ٹینکی بھرواتے ہیں ان میں فرق کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات ان مسائل کا حل ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ انتخابی اصلاحات ایک ہفتہ میں ہوسکتی ہیں، مشکل حالات ہیں ہمیں ریاست کو دیکھنا ہے نہ کہ سیاست کو۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو سیاست کی قربانی دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو بچانے کی خاطر مشکل فیصلے لینے چاہیں، ہم نے سب سے آخر میں پی ٹی آئی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا، ہمارے پاس دو آپشن تھے اعتماد یا عدم اعتماد۔ ایم کیو ایم ہمشہ سے بطور جماعت جمہوریت کی قائل رہی ہے لیکن اب تک سمجھ نہیں آرہی بجٹ کون بنائے گا، ان مشکلات سے کون نکالے گا۔ ایم کیو ایم رہنماء کا کہنا تھا کہ فریش مینڈیٹ لیا جائے دیر کی تو بدنصیبی ہوگی، نگران حکومت پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جانا چاہے۔ ہماری کوشش ہے پوری طاقت سے سیاست میں واپس آئیں اور کراچی سے چھینی گئی اپنی 14 نشستیں حاصل کریں۔ حکومت کے 20 منحرف ارکان کو سندھ ہاؤس میں دیکھا تو اتحادی ہونے پر فیصلہ لینا پڑا، ہمارے پاس تحریک عدم اعتماد پر نیوٹرل ہونے کا کوئی آپشن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف نعرہ نہیں لگایا تھا تو ہم ساتھ کھڑے رہے، پی ڈی ایم کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو اپوزیشن میں بیٹھنے کا آپشن کھلا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نسرین جلیل قابلیت میں عمران اسماعیل سے گورنر کے لیے کسی طرح کم نہیں، بھارت کو لکھے خط پر انہوں نے اپنی پوزیشن 4 دن بعد کلئیر کردی تھی، اس خط کی ایک کاپی چیف جسٹس کو بھی بھجوائی تھی، وزیر اعظم کو ملکی معاشی صورتحال پر تشویش ہے، وزیر اعظم نے کل تمام اتحادیوں رہنماوں کا مشاورتی اجلاس بلا لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں