ایرانی جنرل قاسم کا قتل:اسرائیل کےملوث ہونےکی تصدیق

اسرائیلی ملیٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل تیمر ہیمن نے ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی دفعہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 میں بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے۔تیمر ہیمن کا بیان نومبر میں عبرانی زبان کے میگزین میں شائع ہوا تھا جو اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز سےمنسلک ہے اور یہ انٹرویو ستمبر کے آخر میں ان کی ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل ہوا تھا۔رپورٹر نے بتایا تھا کہ ہیمن نے انٹرویو کا آغاز جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے لیے امریکی فضائی کارروائی سےکیا، جس میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے اہم کردار ادا کیا۔ہیمن نے میگزین کو بتایا تھا کہ جنرل سلیمانی کا قتل ایک کامیابی تھی، جیسا کہ میری نظر میں ہمارا مرکزی دشمن ایران ہے اور فوجی انٹیلی جنس سربراہ کی حیثیت سے میرے دور میں دو اہم قتل ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ‘پہلا میں بتا چکا ہوں، وہ قاسم سلیمانی تھا، کسی سینئر کا سراغ لگانا غیرمعمولی تھا، جو فائٹنگ فورس کا تخلیق کار تھا اور یہ غیرمعمولی حکمت عملی بنانے والا اور منتظم تھا’۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل سلیمانی پڑوسی ملک شام میں ایرانی اثررسوخ کی ریل کا انجن تھا۔ہیمن نے کہا کہ اسرائیلی حملے ایران کو شام میں اپنے قدم جمانے سے روکنے میں کامیاب ہوئے تھے۔اسرائیلی فوج نے انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ہیمن کے اعترافات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 میں بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں قتل کیا گیا تھا، جس سے ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔جنرل سلیمانی پر الزام تھا کہ وہ ایرانی فورس کو ملک سے باہر اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتےہیں۔این بی سی نیوز نے امریکی کارروائی کے ایک ہفتے بعد رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی کی انٹیلی جنس نے جنرل سلیمانی کی دمشق اور بغداد جانےوالی پرواز کی تصدیق میں مدد کی تھی۔رواں برس کے آغاز میں یاہو نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کا جنرل سلیمانی کے نمبرز تک رسائی تھی اور امریکا کو خفیہ اطلاع فراہم کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں