انٹربینک میں روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح 215.2 روپے پر آگیا

ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال کے سبب انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 4.25 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر 215.20 روپے کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 12 منٹ پر ڈالر 216 روپے پر ٹریڈ کررہا تھا، جمعہ کے مقابلے میں یہ اضافہ 5 روپے یا 2.4 فیصد ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ڈالر 215.20 روپے پر بند ہوا اور روپے کی قدر میں 1.97 فیصد کی کمی ہوئی۔ پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے دن کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر ڈیڑھ روپے اضافے سے 212 روپے 50 پیسے کی سطح پر آگیا تھا۔گزشتہ ہفتے ڈالر 210.95 روپے پر بند ہوا تھا، 22 جون کو 211.93 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ڈالر کی قدر چار جولائی تک کم ہو کر 204.56 رپے تک آگئی تھی۔آج کراچی انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر ڈیڑھ روپے اضافے سے 212 روپے 50 پیسے کی ریکارڈ سطح پر آگیا۔ روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ اس کے بعد بھی تیزی سے جاری رہا اور دوپہر تک ڈالر مزید 4.3 روپے مہنگا ہو کر 215.2 روپے کی ریکارڈ سطح پر آگیا۔ تاہم اس کے بعد روپے کی قدر میں بہتری کا رجحان دیکھا گیا اور ڈالر 50 پیسے کمی کے بعد 214 روپے 25 پیسے ہوگیا۔ میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سیاسی عدم استحکام کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ان نتائج نے اتحادی حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روپیہ دباؤ کا شکار ہے کیونکہ مارکیٹ نئی حکومت کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے اور معیشت کے استحکام کے حوالے سے فیصلے موجودہ وزیر خزانہ کریں گے۔ ٹریس مارک کی ریسرچ ہیڈ کومل رضوی نے سعد بن نصیر کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سیاسی منظرنامے کو قرار دیا۔ بتایا کہ گزشتہ روز پیش آنے والے سیاسی واقعات پر روپے کی قدر گر گئی، پی ٹی آئی کی جیت نے موجودہ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے شکوک پیدا کر دیے ہیں اور جذبات پھر منفی ہو گئے ہیں، اسٹیٹ بینک کی مداخلت تک روپیہ اس ہفتے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے قرض معاہدے کی تصدیق کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر روپے کی قدر گراوٹ کا شکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں