انسانی اسمگلنگ کا جرم :دلیر مہندی کو2 سال کیلئےجیل بھیج دیا گیا

بھارت کے معروف گلوکار دلیر مہندی کو انسانی اسمگلنگ کے جرم میں 2 سال کیلئے جیل بھیج دیا گیا۔ جمعرات کے روز پٹیالہ کی عدالت کی جانب سے دو سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد گلوکار دلیر مہندی کو انسانی اسمگلنگ کیس میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس سے قبل بھی گلوکار کو 2018 میں اسی کیس میں عدالت کی جانب سے 2 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔تاہم بعد ازاں دلیر مہندی کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عدالت نے گلوکار کی طرف سے دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے جمعرات کو انسانی اسمگلنگ کیس میں اپنے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے دلیر مہندی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دلیر مہندی اور ان کے آنجہانی بھائی شمشیر سنگھ پر الزام تھا کہ انہوں نے لوگوں کو اپنے میوزک گروپ کا حصہ قرار دے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجا اور اس کے عوض ان سے بھاری رقم وصول کی۔ رپورٹس کے مطابق دونوں بھائی مبینہ طور پر 1998 اور 1999 میں 10 لوگوں کو اپنے گروپ میں امریکا لے کر گئے جہاں سے وہ غیرقانونی طور پر فرار ہو گئے۔ اس کے علاوہ 2003 میں ہی سردار پٹیالہ پولیس اسٹیشن میں بخشش سنگھ نامی شہری کی جانب سے دلیر مہندی اور ان کے بھائی شمشیر سنگھ کے خلاف انسانی اسمگلنگ کے الزام میں ایک ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی ۔ رپورٹس کے مطابق شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ دونوں بھائیوں نے غیر قانونی طور پر بیرون ملک لے جانے میں مدد کے لیے مجھ سے لاکھوں روپے لیے تاہم وہ مجھے بیرون ملک بیھجنے میں ناکام رہے۔ واضح رہے کہ دلیر مہندی کا شمار 90 کی دہائی میں بھارت کے مقبول ترین پنجابی گلوکاروں میں ہوتا تھا اور ان کے گانے ‘بولو تارا رارا” اور ساڈے نال رہو گئے تے’ کافی مقبول ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں