امن و امان کی صورتحال دیگر شہروں میں بھی خراب ہے،وزیراعلی سندھ

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں 2013 والے حالات نہیں مگر اسٹریٹ کرائمز بھی ناقابل برداشت ہیں، امن و امان کی صورتحال ملک کے دیگر شہروں میں بھی خراب ہے جس کی ایک وجہ معاشی بحالی بھی ہے۔وہ الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر میں سینیٹ کی جنرل نشست پر نثار کھوڑو کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نثار کھوڑو کو پارٹی ٹکٹ دیا ہے جبکہ گل محمد جاکھرانی اور عاجز دھامرہ متبادل امیدوار ہیں۔ انہوں نے ڈاکوئوں کی فائرنگ سے سینیئر صحافی کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے، ہم نے اسٹریٹ کرائمز کنٹرول کرنے کے لیے پولیس میں تبدیلیاں کی ہیں، حکومت کا اولین فرض ہے کہ امن و امان ٹھیک کرے، وزیراعلیٰ سندھ کی حیثیت سے ہر محکمہ میری ذمہ داری ہے، ہم نے دہشت گردی کا بھی مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے، اب اسٹریٹ کرائم کا چیلنج ہے اسے بھی کنٹرول کر رہے ہیں، ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کے لیے پرامید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال ملک کے دیگر شہروں میں بھی خراب ہے، اس کی ایک وجہ معاشی بدحالی بھی ہے، ٹیکنالوجی کی بہتری کے منصوبے حتمی مراحل میں ہیں، سیف سٹی پروجیکٹ کے ٹینڈرز ہونے والے ہیں۔ ایک سوال پر مراد علی شاہ نے کہا وفاقی حکومت نے سندھ سے جو افسران ہٹائے تھے ان کے لیے ہم عدالت میں ہیں، وفاق نے جن افسران کو سندھ سے ہٹایا، انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں، اب اس معاملے کا قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا، سول سروسز رولز کے مطابق جو افسر جس جگہ تعینات ہوگا وہ اس صوبے کی حکومت کو جوابدہ ہے، کسی کے کہنے پر گریڈ تبدیل نہیں کیے جاسکتے۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ وفاق این ایف سی کا پیسہ صوبوں سے ہی جمع کرتی ہے، ہمیں 32 ارب روپے کی کٹوتی کا صدمہ اٹھانا پڑا جبکہ پنجاب کے 10 ارب اور کے پی کے کے فنڈز میں 8 ارب روپے کا اضافہ کردیا گیا، میں نے وفاقی وزیر خزانہ سے بات کی تو وہ خود حیران ہوگئے کہ کیسے رقم کی کٹوتی کی گئی، وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ انہوں نے مسائل کو ریکونسل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی حرکتیں تو بے شمار ہیں، ایف بی آر جعلی ٹارگٹ کو پورا کرکے آئی ایم ایف کو مطمئن کررہا ہے، وفاقی وزرا کی تعداد بھی بڑھائی جارہی ہے، یہ سارے اخراجات پورے کرنے کے لیے پیسہ ہماری جیبوں سے نکالا جارہا ہے، وفاقی حکومت مزید قرضوں کی خواہش مند ہے، پہلے بھی 6 ارب کی غلط کٹوتی کا اعتراف کیا پھر قسطوں میں رقم واپس کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹیز میں ہراسانی کے جو واقعات ہوئے ہیں ہم نے ان کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں، کچھ یونیورسٹیز میں ہم نے انتظامیہ بھی تبدیل کی ہے۔ایم کیو ایم کے بند دفاتر کھولنے سے متعلق وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ یہ مشترکہ فیصلہ تھا جس میں وفاق بھی شامل تھا، مجھے نہیں معلوم کہ شیخ رشید نے یہ بیان کیوں دیا، اگر وہ اس فیصلے میں شریک نہیں تھے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے قانون کے حوالے سے جو ترامیم طے ہوئی ہیں وہ کابینہ میں زیر بحث لائی جائیں گی۔سینیٹ الیکشن سے متعلق مراد علی شاہ نے کہا کہ 8 مارچ کو ہم اسلام آباد کے لانگ مارچ میں شامل ہوں گے اور 9 مارچ کو الیکشن والے دن کراچی پہنچ جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں