امریکی آئین کی نایاب دستاویز4 کروڑ32 لاکھ ڈالرمیں نیلام

امریکی آئین کی انتہائی نایاب پہلی دستاویز کو چار کروڑ 32 لاکھ ڈالر میں بیچ دیا گیا جو کسی بھی دستاویز یا کتاب کے لیے ادا کی جانے والی ریکارڈ قیمت ہے۔ نیویارک میں نیلام گھر سوتھ بیز نے اعلان کیا کہ دستاویز کے خریدار، ہیج فنڈ مینیجر کینتھ گرفن، بینٹن ویل، آرکنساس میں واقع کرسٹل برجز میوزیم آف امریکن آرٹ کو عوامی نمائش کے لیے یہ دستاویز قرض دیں گے۔ملٹی نیشنل ہیج فنڈ سیٹاڈیل کے بانی اور سی ای او کینتھ گرفن نے کرپٹوکرنسی کے ذریعے 17 ہزار افراد کی اس دستاویز کو خریدنے کی کوشش ناکام بنادی جنہوں نے اسے خریدنے کے لیے کراؤڈ فنڈنگ کی تھی۔کینتھ گرفن نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکی آئین ایک مقدس دستاویز ہے جو ہر امریکی اور ان تمام لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے جو حقوق کی خواہش رکھتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ’اسی لیے میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہمارے آئین کی یہ کاپی تمام امریکیوں اور سیاحوں کے لیے ہمارے عجائب گھروں اور دیگر عوامی مقامات پر دستیاب ہو‘۔کرسٹل برجز بورڈ کی چیئرپرسن اولیویا والٹن نے کہا کہ ہمیں اپنی قوم کی تاریخ کے اہم ترین دستاویزات میں سے ایک کو امریکا کے مرکز میں اپنے مقام سے نمائش کے لیے پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔نیلام کی گئی یہ آئینی دستاویز ان گیارہ کاپیوں میں سے ایک ہے جس پر 17 ستمبر 1787 کو فلاڈیلفیا کے آزادی ہال (انڈیپنڈنس ہال) میں امریکا کے بانی جارج واشنگٹن، بینجمن فرینکلن اور جیمز میڈیسون نے دستخط کیے تھے اور اسی سال اس کی منظوری دی گئی تھی۔آئین کی یہ پرنٹنگ آخری بار 1988 میں فروخت ہوئی تھی، جب رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور کلکٹر ایس ہاورڈ گولڈمین نے اسے نیلامی میں ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر میں خریدا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں