امریکا میں مہنگائی کا طوفان

امریکا میں مہنگائی جون میں 9.1 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے صدر جو بائیڈن کی ریٹنگ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے متاثر ہوئی ہے۔ بدھ کو جاری کیے گئے حکومتی اعداد و شمار میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی وجہ سے مئی کے مقابلے میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں تیز اور توقع سے زیادہ تیزی سے اضافہ دکھایا گیا ہے، لیبر ڈیپارٹمنٹ نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ 12 مہینوں کے دوران جون تک کنزیومر پرائس انڈیکس میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا جو نومبر 1981 کے بعد سب سے تیز ترین اضافہ ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر ہونے والے اس اضافے میں سے نصف کی وجہ توانائی ہے ڈالا کیونکہ گزشتہ ماہ پیٹرول کی قیمت میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا اور گزشتہ سال کے دوران 59.9 فیصد کا حیران کن اضافہ ہوا، توانائی کی مجموعی قیمتوں میں اپریل 1980 کے بعد سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہوا۔ مہنگائی کی شرح کو ناقابل قبول حد تک زیادہ تسلیم کرتے ہوئے بائیڈن نے دلیل دی کہ یہ اعدادوشمار پرانے ہیں کیونکہ اس نے جون کے وسط سے توانائی کی قیمتوں میں واضح کمی کی عکاسی نہیں کی، قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد امریکی خاندانوں نے کچھ سکھ کا سانس لیا ہے، اس رپورٹ کے بعد گندم جیسی دیگر اجناس کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ انہوں نے افراط زر سے نمٹنے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ کو قیمتوں میں اضافے کو قابو میں لانے کے لیے زیادہ تیزی سے پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں