امریکا میں عمران خان کےدورہ روس کا دفاع کرنےپربلاول بھٹوکی تعریف

پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری آج کل امریکہ کے اہم دورے پر ہیں جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود سرد مہری کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم بلاول بھٹو کا سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہ روس سے متعلق سوال کا جواب ان کے اس دورے کا سب سے نمایاں پہلو بن گیا ہے۔نیویارک میں جب بلاول سے ایک پریس بریفنگ کے دوران پوچھا گیا کہ عمران خان کی جانب سے دورہ روس کے باعث یورپ اور امریکہ میں خاصی مایوسی پائی جاتی ہے تو آپ اس سے کیسے نبرد آزما ہوں گے۔اس پر بلاول نے کہا کہ ’میں سابق وزیرِ اعظم کے دورہ روس کا دفاع کروں گا۔ انھوں نے یہ دورہ اپنی خارجہ پالیسی کے حساب سے کیا۔ کسی کی بھی چھٹی حس اتنی اچھی نہیں ہوتی، ہمیں کسی بھی صورت میں اس بارے میں علم نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ وہ وقت ہو گا جب موجودہ (روس یوکرین) تنازع شروع ہونے جا رہا تھا۔’میرے نزدیک پاکستان کو اس معصومانہ اقدام پر سزا دینا غیر منصفانہ ہو گا۔‘ بعد میں ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ ’جب میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے کام کرتا ہوں تو میں صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایتیوں کی نمائندگی ہی نہیں کر رہا ہوتا بلکہ پورے پاکستان کے عوام کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہوں۔’ خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس فروری کے اواخر میں روس کا دورہ کیا تھا جسے سفارتی اعتبار سے نہایت اہم سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی جب روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ کیا جا چکا تھا۔ تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے اور عمران خان کے وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹنے کے بعد سے عمران خان کی جانب سے بارہا اس دورے کا ذکر کیا جاتا رہا ہے اور ان کی جانب سے کئی دعوے بھی سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک بھی ہے کہ انھیں مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی ’سزا‘ دی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر بلاول کو عمران خان کے بیان کا دفاع کرنے پر خاصی پذیرائی مل رہی ہے اور اکثر افراد سابقہ وزیرِ اعظم عمران خان کے بیرونِ ملک دوروں کے دوران دیے گئے بیانات کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔ ’امریکہ کے دورے پر جانے کے بعد سے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بلاول بھٹو کو کسی نے کسی انداز میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کسی بیان یا اقدام کا دفاع کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل معروف امریکی صحافی کرسٹیان امان پور نے جب ان سے عمران خان کے افغانستان کے بارے میں اس بیان میں پوچھا جس میں انھوں نے طالبان کے افغانستان پر قبضے کو ‘غلامی کی زنجیریں توڑنے’ سے تشبیہ دی تھی تو بلاول نے عمران خان پر تنقید کرنے کی بجائے کہا کہ ’ہماری توجہ مستقبل پر ہے، کیونکہ اگر ہم ماضی کا الزامات کے بارے میں بات کی جائے تو امریکہ کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔’ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین، تجزیہ کار اور صحافی ’بڑا پن‘ دکھانے پر ان کی تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ شاید عمران خان ان کی جگہ ہوتے تو ایسا نہ کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں