امریکا:آزادی پریڈ کےدوران فائرنگ،6 افراد ہلاک،متعدد زخمی

امریکی ریاست الینوئس میں امریکا کے یوم آزادی کی مناسبت سے ہونے والی پریڈ کے دوران فائرنگ سے 6 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے۔ پولیس کمانڈر کرس اونیل نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت دو درجن افراد کو ہائی لینڈ پارک ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور 6 افراد کے دم توڑنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ حملہ آور تاحال مفرور ہے اور اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ 18 سے 20 سال کی عمر کا سفید فام تھا اور سیاہ رنگ کے لمبے بال تھے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ تمام افراد کو محفوظ جگہ جانے پر زور دیا جارہا ہے۔ہائی لینڈ پارک کے میئر نینسی روٹرنگ نے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 6 ہی بتائی اور یوم آزادی کے موقع پر ایسے واقعے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے دن جب ہم ایک ساتھ آزادی منانے آئے تھے بجائے اس کے ہم قیمتی جانوں کے ضیاع پر غم منا رہے ہیں اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔دونوں عہدیداروں نے بتایا کہ فائرنگ صبح 10:14 بجے شروع ہوئی تھی۔ ایف بی آئی، اسٹیٹ پولیس اور مقامی شیروف کے دفتر سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر کارروائی کر رہے ہیں۔فائرنگ کے بعد ہائی لینڈ پارک اور قریبی علاقے ایونسٹن میں 4 جولائی کے حوالے سے شیڈول تمام تقریبات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ گوکہ ایونسٹن میں شہریوں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے تاہم حملہ آور تاحال مفرور ہے اسی لیے تمام احتیاطی طور پر تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں۔پریڈ میں موجود امریکی نمائندہ براڈ شینائیڈرد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرکہا کہ ‘ایک حملہ آور نے ہائی لینڈ پارک میں یوم آزادی پریڈ کے دوران حملہ کیا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘جانوں کے ضیاع اور زخمیوں کی اطلاع ہے، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتا ہوں، زخمیوں اورشہریوں کے لیے دعاگوہ ہوں اور کہا کہ بہت ہوگیا’۔ گن وائلینس آرکائیو ویب سائٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ امریکا میں جاری واقعات کا تسلسل ہے جہاں ایک سال میں آتشیں اسلحے کے حملوں اور خودکشیوں سمیت 40 ہزار اموات ہوئی ہیں۔ امریکا میں اسلحہ کنٹرول کرنے کی بحث مئی میں ہونے والے دو بدترین حملوں کے بعد عروج کو پہنچی تھی جہاں نیویارک میں 10 سیاہ فام دکانداروں اور ٹیکساس کے ایلیمنٹری اسکول میں بچوں سمیت 21 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد کانگریس نے دہائیوں بعد گن کنٹرول کا بل پہلی مرتبہ منظور کرلیا تھا۔ صدر جوبائیڈن نے جون کے آخر میں بل پر دستخط کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ ضرورت کو پورا نہیں کرتا تاہم اس سے بھی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں