الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج ممکن

امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر بالاصوتی (الٹراساؤنڈ) لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔ ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی۔ یہ تجربات چوہوں، چوہیاؤں اور سؤروں پر انجام دیئے گئے۔ جگر کے ایک حصے ’’پورٹا ہیپاٹس‘‘ میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ’’ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزاء کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھاؤ رونما ہوتے ہیں۔ البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔ انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کےلیے مرکوز الٹراساؤنڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی۔ حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مؤثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔ مختصر دورانیے کےلیے وقفے وقفے سے مرکوز الٹراساؤنڈ لہریں ڈالنے کے باعث جگر کے ان مخصوص خلیوں میں جو تحریک پیدا ہوئی، اس سے جانوروں کے خون میں شکر (بلڈ شوگر) اور انسولین کی مقدار کم ہوئی۔ کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کےلیے اجازت کے منتظر ہیں۔ اگر انسانی تجربات میں بھی یہ تکنیک اتنی ہی کارآمد اور مفید ثابت ہوئی تو امید ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ذیابیطس کا ایک نیا، بہتر، مؤثر اور کم خرچ علاج ہمارے پاس ہوگا جس کےلیے کسی آپریشن کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں