القاعدہ کےرہنما ایمن الظواہری کابل میں امریکی ڈرون حملے میں شہید

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا نے ایک حملے میں القاعدہ کے سربراہ اور اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی ایمن الظواہری کو شہید کردیا ہے۔یہ حملہ 2011 میں القاعدہ کی بنیاد رکھنے والے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد عسکریت پسند تنظیم کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے۔ایمن الظواہری اتوار کی صبح 6 بج کر 18 منٹ پر افغان دارالحکومت کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ وائٹ ہاؤس سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ‘اب انصاف ہوگیا ہے اور دہشت گرد رہنما اب نہیں رہے’۔جوبائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ ‘چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگے، چاہے آپ کہیں بھی روپوش ہوں اگر آپ ہمارے لوگوں کے لیے خطرہ ہیں تو امریکا آپ کو ڈھونڈے گا اور نکال باہر کرے گا’۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘امریکی انٹیلیجنس مختلف خفیہ اطلاعات کے ذریعے ‘پورے اعتماد’ کے ساتھ پر عزم ہیں کہ جو شخص مارا گیا وہ ایمن الزواہری تھے۔امریکی عہدیدار نے بتایا کہ انہیں کابل میں ایک ‘سیف ہاؤس’ کی بالکونی میں قتل کیا گیا جسے جہاں وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رہتے تھے اس کے علاوہ کوئی اور جانی نقصان نہیں ہوا۔عہدیدار نے ایک کانفرنس کال پر کہا کہ ایمن الظواہری امریکی افراد، مفادات اور قومی سلامتی کے لیے ایک فعال خطرہ تھے، ان کی موت القاعدہ کے لیے ایک اہم دھچکا ہے اور اس سے گروپ کی کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔ حالیہ برسوں میں متعدد بار القاعدہ رہنما کی موت کی افواہیں سامنے آئیں اور طویل عرصے سے ان کی صحت کی خرابی کی اطلاعات تھیں۔ان کی موت سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا ایمن الظواہری کو طالبان نے کابل پر قبضے کے بعد چھپننے کی جگہ فراہم کی۔امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ سینیئر طالبان رہنما شہر میں ان کی موجودگی سے آگاہ تھے۔یہ ڈرون حملہ اگست 2021 میں امریکی فوجی دستوں اور سفارتکاروں کے افغانستان سے نکلنے کے بعد پہلا امریکی ڈرون حملہ ہے۔ ایک بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی تصدیق کی اور اسے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔طالبان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آج صبح کابل پر کم از کم ایک ڈرون پرواز کرنے کی اطلاعات ملی تھیں۔سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایمن الظواہری کی تلاش دہشت گردی کے خلاف مسلسل کام کا نتیجہ ہے۔عہدیدار کے مطابق امریکا نے اس سال شناخت کیا کہ ایمن الظواہری کی اہلیہ، بیٹی اور ان کے بچے کابل میں ایک سیف ہاؤس میں منتقل ہو گئے تھے اور پھر دیکھا کہ وہ خود بھی وہاں موجود تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ایمن الظواہری اس مقام پر پہنچے، تو ہمیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کبھی سیف ہاؤس سے باہر نکلے یا نہیں البتہ بالکونی میں ان کی کئی بار شناخت ہوئی، جہاں انہیں بالآخر مار دیا گیا۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ وہ سیف ہاؤس میں ویڈیوز بناتے رہے ہیں جو شاید ان کی موت کے بعد جاری کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں