افغانستان نظراندازاور بدقسمت ملک ہے،جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کو ’نظر انداز، بد قسمت ’ سرزمین قرار دے افغان قوم کو ناراض کر دیا۔جمعہ کے روز سیان ڈیاگو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران انہوں نے افغانستان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حاضرین میں سے بہت سے لوگ افغانستان جا چکے ہوں گے، میں اس کے چپے پچے میں گیا ہوں، یہ دھتکارا ہوا، بد قسمت ملک ہے-اس دوران انہوں نے بطور ایک سینیٹر اور امریکی نائب صدر افغان جنگی علاقے کے اپنے کئی دوروں کا ذکر کیا جس میں 2008 میں وہ سفر بھی شامل تھا جس کے دوران وہ برف میں پھنس گئے تھے۔ ہفتے کے روز چیف ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں جو بائیڈن کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی رہنما مایوسی کا شکار ہوکر ایسے بیانات دے رہے ہیں جب کہ ان کی پارٹی امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں شکست کھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات دینے والے افغانستان کے لیے اپنی مایوسی اور حسد کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگست 2022 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں امن اور استحکام لوٹ آیا ہے اور افغان عوام معمول کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔صدر جو بائیڈن نے طالبان کے ساتھ دو دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کو واپس بلا لیا اور انخلا کے نتیجے میں کابل میں امریکی حمایت یافتہ حکومت فوری طور پر ختم ہوگئی۔براؤن یونیورسٹی کے تخمینے کے مطابق افغانستان میں امریکی تاریخ کی سب سے طویل فوجی مداخلت پر واشنگٹن نے تقریباً 2 ٹریلین ڈالر خرچ کیے جب کہ 2001 سے اب تک 2 ہزار 400 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اپنی حمایت یافتہ حکومت گرنے کے بعد کابل کو دی جانے والی مالی امداد معطل کر دی تھی جب کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے بھی بینکنگ سیکٹر پر پابندیاں عائد کر دی تھیں اور افغان مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے غیر ملکی اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں