اردو زبان میں قانون سازی پرکام تیزکرنےکی ضرورت ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جب قوانین انگریزی میں ہوں اور اس کے ترجمے اردو زبان میں موجود نہ ہوں تو آپ عوام کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ قانون پر عمل کریں اس لیے اردو زبان میں قانون سازی پر کام تیز کرنے کی ضرورت ہے-لاہور ہائی کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’جب میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تھا اس وقت ہڑتال کی وجہ سے ہائی کورٹ کے کام میں کبھی تعطل نہیں آیا، ہڑتال کی سزا سائلین کو بھگتنی پڑتی ہے جج اور عدالتی عملے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑھتا، ان کو تو معمول کے مطابق تنخواہ ملتی رہتی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اپنے جائز مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے کے کئی طریقے ہیں بشمول خط لکھنا اور قرارداد منظور کرنا اور ضرورت پڑے تو قانون کے دائرے میں احتجاج بھی کیا جا سکتا ہے، قانون کے دائرے میں احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔مقدمات کو درج نمٹانے سے متعلق تجاویز کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ عوام کی عدالتوں سے شکایت ہے کہ کیسز کے فیصلے برسوں بعد ہوتے ہیں، جب میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تھا ہم نے مقدمات کو نمٹانے کے لیے کئی اقدامات کیے جن میں مقدمہ درج کرنے والے کی شناخت کے لیے بائیومیٹرک بھی ضروری قرار دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں نے وکلا کے منتخب نمائندوں سے ملاقات کی جس میں کوئٹہ بار، بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ ’ملاقات میں وکلا رہنماؤں کے کئی مطالبات تھے، میں نے ان سے تحریری شکل میں مطالبات طلب کیے، انہوں نے 33 مطالبات تحریری شکل میں پیش کیے جن میں سے 32 مطالبات ایسے تھے جن میں عدالتی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی، مسائل کی نشاندہی کرنے پر میں نے وکلا رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور وہ مسائل حل کیے۔ سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ جس وقت قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی ہوتی ہے اسی وقت قوانین کو اردو زبان میں بھی شائع کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو قوانین کو سمجھنے اور عمل کرنے میں آسانی ہو، جب قوانین انگریزی میں ہوں اور اس کے ترجمے اردو زبان میں موجود نہ ہوں تو آپ عوام کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ قانون پر عمل کریں، اردو زبان میں قانون سازی پر کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے غفلت کی نشاندہی کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے دوبارہ قوانین ویب سائٹس پر اپ ڈیٹ کرنے شروع کردیے گئے ہیں جن کو اب وہاں نہ صرف پڑھا جاسکتا ہے بلکہ ڈاؤن لوڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتایا کہ پاکستان کورٹ، پنجاب کورٹ، بلوچستان کورٹ، خیبر پختونخوا کورٹ اور سندھ لاز کے نام سے یہ ویب سائٹس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کو ویب سائٹس پر اپ لوڈ اور اپ ڈیٹ کرنے کے کام میں بہتری کی گنجائش ہے، گزشتہ سالوں میں 5 سال اور 10 سال کے عدالتی کیسز کتابی شکل میں شائع ہوتے تھے تاہم اب یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے جس کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں