اردوان کےنئےمعاشی اقدامات سےڈالر کےمقابے میں لیراکی قدرمیں اضافہ

ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر میں بے انتہا کمی کے بعد ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے ملکی ڈپازٹ کے تحفظ کے لیے نئے معاشی اقدامات کے اعلان کے نتیجے میں لیرا کی قدر میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ منگل کو ترک صدر کی جانب سے اعلانات کے بعد لیرا کی قدر میں 30فیصد تک اضافہ ہوا جس پر معاشی ماہرین بھی حیران نظر آتے ہیں۔ترک رہنما نے پیر کو بینکوں میں لیرا کے کچھ ذخائر کی قدر کا ڈالر کے ساتھ موازنہ کر کے مارکیٹوں اور اپنے سیاسی مخالفین کو دنگ کر دیا۔ماہرین اقتصادیات اور بہت سے ترک ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ زرمبادلہ کا یہ نیا طریقہ کار کیسے کام کرے گا یا حکومت کو اس کی ادائیگی کے لیے رقم کہاں سے ملے گی۔لیکن اس کے لیرا کی قدر پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں جو یکم نومبر سے پیر کی سہ پہر تک ڈالر کے مقابلے میں 45 فیصد گنوا چکا تھا۔جب کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد اردوان سرکاری ٹی وی پر اپنی نئی اقتصادی تجاویز کا اعلان کرنے کے لیے آئے تو اس وقت لیرا 10 فیصد نیچے ٹریڈ کر رہا تھا۔تاہم ترک صدر کے خطاب کے چند گھنٹے بعد لیرا اسی دن 20 فیصد زائد پر ٹریڈ کررہا تھا۔بلو بے ایسٹ مینجمنٹ کے ماہر معاشیات ٹموتھی ایش نے اپنے صارفین کے نام پیغام میں کہا کہ اردوان انتظامیہ نے ثابت کردیا کہ انہیں زرمبادلہ کی شرح کا خیال ہے اور انہوں نے سرمائے کو کنٹرول کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ شرح سود پر نہیں بلکہ مارکیٹوں پر یقین رکھتے ہیں۔اردوان کا ماننا ہے کہ بلند شرح سود مہنگائی کا باعث بنتی ہے اور انہوں نے مرکزی بینک پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اپنی پالیسی ریٹ کو قیمت میں اضافے کی سالانہ شرح سے بہت نیچے لے جائے جہاں یہ شرح اب 21 فیصد پر ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں وہ ترک شہری جنہوں نے بینکوں میں لیرا رکھے ہوئے ہیں وہ ہر ماہ اپنی رقم تھوڑی تھوڑی گنواتے رہیں گے۔ماہرین اقتصادیات نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری طور پر کچھ نہ کیا گیا تو ترکی کا بینکاری نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔اردگان کی اس نئی پالیسی کو سابق مشیر مالیات مہفی ایگلمیز نے بالواسطہ شرح سود میں اضافے کا نام دیا ہے اور اس کا مقصد زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاو کے خلاف لیرا کی قدر کا دفاع کرنا ہے۔یہ نیا طریقہ کار اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ حکومت وقتاً فوقتاً ادائیگیوں کے ذریعے ڈالر کے مقابلے بینکوں میں لیرا کے ذخائر کی قدر میں کمی کو پورا کرے گی۔ایگلمز نے ٹوئٹر پر وضاحت کی کہ اگر زرمبادلہ کی شرح میں 40 فیصد اضافہ ہوتا ہے اور شرح سود میں 14 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو 26 فیصد پوائنٹس بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔ یہ پالیسی اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ افراط زر کی توقعات کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ترک لیرا کے اثاثوں کو محفوظ تصور کر سکیں۔منگل کے دن کے اوائل میں لیرا کی قدر میں مزید 22 فیصد اضافہ ہوا البتہ یہ اضافہ عارضی ثابت ہوا اور دوبارہ گراوٹ آئی تاہم دوپہر تک لیرا کی قدر میں دوبارہ چھ فیصد کا اضافہ ہو چکا تھا۔اس نئی پالیسی کے باوجود متعدد اقتصادی ماہرین یہ سوال کررہے ہیں کہ کیا اردگان کا نیا نقطہ نظر پائیدار ہے؟۔ ترکی کے سابق وزیر خزانہ علی باباکان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈپازٹ کی گارنٹی کا طریقہ عوام کے بوجھ میں اضافہ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملکی خزانہ ٹیکس کے ساتھ اس کی ادائیگی کرے گا، یہ ملکی معیشت کو ڈالر کی نذر کرنا ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے اس بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ آیا یہ اقدام صحیح معنوں میں ترک عوام کو مہنگائی سے بچا بھی سکتا ہے یا نہیں۔ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ماہر ٹموتھی ایش نے کہا کہ یہ اب بھی بری پالیسی ہے، اس اسکیم کا ممکنہ طور پر مقصد اس بحرانی صورتحال میں وقت لینا اور بینکنگ کے شعبے کو تباہی سے بچانا ہے لیکن اس میں مہنگائی سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں