ابوظبی میں حوثیوں کے مشتبہ ڈرون حملے،ایک پاکستانی سمیت 3 افراد ہلاک

متحدہ عرب امارات پر حوثی باغیوں کے مشتبہ ڈرون حملے کے نتیجے میں تیل کے پیٹرول ٹینکس پھٹنے سے ہونے والے دھماکوں میں ایک پاکستانی شہری سمیت 3 افراد ہلاک ہو گئے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہریوں کی موت واقع ہو گئی اور 6 معمولی زخمی ہوئے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے اکثر سعودی عرب پر ڈرون حملے کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس کی نسبت متحدہ عرب امارات پر بہت کم حملے کیے گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کو اماراتی حکام نے ناکام بنا دیا۔ صنعتی علاقے مسافا میں تیل کی کمپنی ایڈناک کی تیل کے اسٹوریج ایریا میں 3 فیول ٹینکر پھٹنے سے 3 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہو گئے۔ابوظبی پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی تفتیش میں جائے حادثہ سے ایک طیارے کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں جس سے یہ عندیا ملتا ہے کہ دھماکا اور آگ لگنے کے واقعات ممکنہ طور پر درون حملے کا نتیجہ ہو سکتے ہیں البتہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ادھر حوثی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں اندر تک ایک کارروائی کی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں اس کی تفصیلات جاری کریں گے۔یمن کے تیل سے مالا مال شبوا اور مارب کے علاقوں میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ اتحادی افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے۔2019 میں ایران سے بڑھتے ہوئے تناؤ کے سبب امارات نے یمن میں اپنی افواج کی تعداد میں نمایاں کمی کرتے ہوئے انہیں وطن واپس بلا لیا تھا لیکن یمن کی فوج کو اسلحے اور تربیت کی فراہمی کے سبب ان کا مقامی افواج پر اثرورسوخ برقرار ہے۔حوثی باغیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بے دخل کردیا تھا جس کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت اتحادی افواج نے مداخلت کی تھی۔جولائی 2018 میں متحدہ عرب امارات نے ابوظبی ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کی رپورٹس کو مسترد کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں