آڈٹ رپورٹس اور پی ٹی آئی کی بینک اسٹیٹمنٹس میں تضاد ہے،اسکروٹنی کمیٹی

پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے بینک اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے، الیکشن کمیشن میں عطیات سے متعلق غلط معلومات فراہم کیں۔پی ٹی آئی ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔الیکشن کمیشن میں جمع اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ میں شامل کیش رسیدیں، بینک اسٹیٹمنٹ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے بینک اسٹیٹمنٹ سے ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک ارب 64 کروڑ روپے کے عطیات موصول ہوئے، پی ٹی آئی نے 31 کروڑ روپے سے زائد رقم الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کی۔رپورٹ کے مطابق تین بینکوں نے 2008 تا 2012 تک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات اثاثوں میں ظاہر نہیں کیں، پانچ سال میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرمز نے آڈٹ رپورٹس کا ایک ہی ٹیکسٹ جاری کیا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم نے اپنی آڈٹ رپورٹ میں کوئی تاریخ درج نہیں کی، تاریخ کا درج نہ ہونا اکاؤنٹنگ معیار کے خلاف ہے۔رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کو ایک ہزار 414 پاکستانی، 47 غیر ملکیوں اور 119 کمپنیوں کے کنٹریبیوٹرز نے فنڈنگ کی۔فنڈنگ کرنے والوں میں 4 ہزار 755 پاکستانی، 41 غیر ملکی اور 230 فارن کمپنیز شامل تھیں۔رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے 2010 اور 2013 کے درمیان امریکا سے 23 لاکھ 44 ہزار 882 ڈالرز کے فنڈز اکٹھے کیے، اس کے علاوہ دبئی، برطانیہ، یورپ، ڈنمارک، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے بھی فنڈز ملے۔رپورٹ کے مطابق اسکروٹنی کمیٹی نے بیرون ملک سے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کا پتہ چلا یا مگر پی ٹی آئی اسکروٹنی کمیٹی کو ذرائع بتانے میں ناکام رہی۔ اسکروٹنی کمیٹی کو غیر ملکی بینک اکاؤنٹس تک رسائی نہیں ملی اس لیے کمیٹی پی ٹی آئی کو فنڈنگ کے ذرائع پر تبصرہ نہیں کر سکتی۔پی ٹی آئی نے گوشواروں میں ایم سی بی، بینک آف پنجاب اور بینک آف خیبر کے اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے۔ اسکروٹنی کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ آڈٹ رپورٹس اور پی ٹی آئی کی بینک اسٹیٹمنٹس میں تضاد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں